اک سمندر درمیاں ہے، اک سمندر درمیاں
تُو وہاں کیسی ہے مجھ کو، کیا بتائے گا جہاں
کیسے تیری یاد پھیلی، ہر گلی اور ہر مکاں
چاہتا ہوں پُھول بھِیجوں، پر تجھے کیسے وہاں
اک سمندر درمیاں ہے، اک سمندر درمیاں
غم کے بادل آ گئے ہیں، اب بھلا کیسے چھٹیں
اک سمندر درمیاں ہے، اک سمندر درمیاں
تُو وہاں کیسی ہے مجھ کو، کیا بتائے گا جہاں
کیسے تیری یاد پھیلی، ہر گلی اور ہر مکاں
چاہتا ہوں پُھول بھِیجوں، پر تجھے کیسے وہاں
اک سمندر درمیاں ہے، اک سمندر درمیاں
غم کے بادل آ گئے ہیں، اب بھلا کیسے چھٹیں
غم کی فصلیں اُگ جاتی ہیں کاٹیں گے ہم خوشیاں کیسے
اُجیارے کو ڈس جاتی ہیں مایوسی کی رتیاں کیسے
ہر اک چڑیا اُڑ جائے گی گھر کے پھیلے آنگن سے
تنہائی کے ڈیروں میں ہم ڈھونڈیں گے وہ سکھیاں کیسے
دن ڈھلنے کے سارے موسم آنکھ میں پنہاں رہتے ہیں
بیٹھ کے خالی دروازے پر یاد کروں وہ گلیاں کیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر دم درود سرورؐ عالم کہا کروں
ہر لمحہ محوِ رُوئے مکرمؐ رہا کروں
اسم رسولﷺ ہو گا، مداوائے دردِ دل
صلِ علیٰؐ سے دل کے دُکھوں کی دوا کروں
ہر سطر اس کی اسوۂ ہادیﷺ کی ہو گواہ
اس طرح حالِ احمدﷺ مُرسل کہا کروں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مغموم نہ ہو حرف کو پابندِ ثناﷺ کر
سرکارؐ نوازیں گے مدینے میں بُلا کر
اے قریۂ محبوبؐ سے آئی ہوئی خوشبو
آ کوچۂ احساس میں، سانسوں میں رہا کر
اے مالکِ کُل! میری تمنا کا بھرم رکھ
لایا ہوں دعاؤں کو بھی نعتوں میں سجا کر
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
باوضو ہو کر مِرے سرکارؐ کی باتیں کریں
انؐ کے پاکیزہ لب و رخسار کی باتیں کریں
شاہؐ دیں کا تذکرہ چھیڑیں ہر اک محفل میں ہم
اب نہ ہرگز لغو اور بے کار کی باتیں کریں
بدر کے میداں میں پہنچا سر پہ جو باندھے کفن
آؤ پھر اس صاحبِ تلوارﷺ کی باتیں کریں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یا محمدؐ! آپﷺ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس
میری روحِ مضطرب نے وہ خوشی پائی کہ بس
گونج اٹھا جب فضا میں نغمۂ صلِّ علی
رحمتوں کی ہر طرف ایسی گھٹا چھائی کہ بس
فرش پر مخلوق ساری سوچتی ہی رہ گئی
عرش پر ان کی ہوئی ایسی پذیرائی کہ بس
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دور ہر سلسلۂ فکرِ زبوں ہے، یوں ہے
اس قدر شہرِ نبیؐ میں جو سکوں ہے، یوں ہے
سرورِ دیںﷺ کی غلامی کا شرف ہے حاصل
میری عزت جو زمانے میں فزوں ہے، یوں ہے
اس درِ پاکﷺ کا ہر حال میں لازم ہے ادب
پیرہن ہوش کا پہنے جو جنوں ہے، یوں ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں نعتِ شفیعِ اممﷺ لکھ رہا ہوں
میں ان کو خدا کا کرم لکھ رہا ہوں
وہ مولا سے اُمّی لقب پانے والے
انہیں تاجدارِ حرمﷺ لکھ رہا ہوں
ہیں شافعِ روزِ جزا میرے آقاﷺ
تبھی ان کو ابرِ کرم لکھ رہا ہوں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ام معبد کی نظم در وصف نبیﷺ
قالت أُمِّ مَعْبَدٍ فی وصف النبیﷺ
رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الوَضَأَةِ
أَبْلَجَ الوَجْهِ
حَسَنَ الخَلْقِ
لَمْ تَعِبْهُ ثُجْلَةٌ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بیان ام معبدؓ بر محمد مصطفیٰﷺ
آیا جو شوہرِ ام معبدؓ تھکا ہوا
برتن میں دودھ دیکھ کے حیران رہ گیا
بڑھیا نے پھر سنایا اسے سارا ماجرا
کرنے لگی بیاں وہ سراپا رسولﷺ کا
وصفِ نبیﷺ کا ایک نیا باب کھل گیا
سارا غبار شرک و معاصی کا دُھل گیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بیان ام معبدؓ بر محمد مصطفیٰﷺ
بولی عفیفہ مادرِ معبدؓ؛ کیا کہوں؟
حیران ہوں کہ اس کا سراپا بیاں کرو
اوصاف اس حبیبؐ کے میں کس طرح گنوں
اس کے حسین وجود کو تشبیہ کس سے دوں
وہ پیکر جمیل، سراپا جمال ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہ شکلِ جمیل اور وہ نوری خد و خال
اللہ رے موزونیتِ حسن و جمالﷺ
یہ سنبل پیچاں،۔ یہ گلاب و گوہر
ہرگز نہیں زلف و لب و دنداں کی مثال
وہ آنکھیں اگر چشمِ تصور دیکھے
جولاں ہمارے دشتِ تخیل کا غزال
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ عرض آپؐ سے ہے اور بڑے ادب سے ہے
حضورؐ مجھ کو بھی آنے کا شوق کب سے ہے
حضورؐ آپؐ تو واقف ہیں اس حقیقت سے
یہ اضطراب میرے دل میں کس سبب سے ہے
لگا سکے گا مِری کون عظمتوں کا سراغ
کہ دھڑکنوں کا تعلق شہ عربؐ سے ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آمدِ خیرالبشرﷺ ہے مرحبا، صد مرحبا
نور سے بھیگی سحر ہے مرحبا، صد مرحبا
مل گیا جو بیٹیوں کو تمغۂ رحمت یہاں
ان کی حکمت کا ثمر ہے مرحبا صد مرحبا
رشک کرتے ہیں سبھی میرا نصیبا دیکھ کر
جانبِ طیبہ سفر ہے مرحبا، صد مرحبا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہے ذکر انؐ کا بالا قرآن کہہ رہا ہے
اعلٰی ہے انؐ کا رتبہ قرآن کہہ رہا ہے
لوگوں کے واسطے ہے اک بہتریں نمونہ
کردار مصطفٰیﷺ کا قرآن کہہ رہا ہے
سرکارِ ہر جہاں کو کون و مکاں کی خاطر
رحمت بنا کے بیجھا قرآن کہہ رہا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
انؐ سے عقیدت کا یہ تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
ان کے نام پہ جینا مرنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
وہ کہتا ہے صرف بشر تھے، میں کہتا ہوں نور بھی ہیں
اس کا گماں اور میرا دعویٰ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میں تو رحمت بھیجتا ہوں، تم ان پر درود سلام پڑھو
قرآں میں یہ حکم خدا کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
ملی/قومی گیت/نغمہ
ماؤں کی دعا پوری ہوئی اور ہمیں
اتنی پیاری دنیا میں گھر مل گیا
اللہ کا احسان ہے، ہمارا پاکستان ہے
ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں، ہم پاکستان ہیں
ہم اس کی جان ہیں، ہم پاکستان ہیں
ملی/قومی گیت/نغمہ
میرے وطن یہ عقیدتیں اور
پیار تجھ پہ نثار کر دوں
محبتوں کے یہ سلسلے
بے شمار تجھ پہ نثار کر دوں
میرے وطن میرے بس میں ہو تو
تیری حفاظت کروں میں ایسے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اللہ اللہ شہِﷺ ارض و سما آج کی رات
بزمِ قوسَین میں ہیں، جلوہ نُما آج کی رات
قابلِ دید ہے رتبہ، یہ تِراﷺ آج کی رات
تاجِ لولاک لما سر پہ سجا آج کی رات
حسنِ مُطلق نے بصد شوق کہا آج کی رات
چاہے جو مانگ لے، اے شاہِ دناؐ آج کی رات
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا
کی نہ کچھ عقدہ کشائی ناخنِ تدبیر نے
کربلا پہنچا دیا ہے عشق کی تاثیر نے
کہتے تھے شہؑ لو ہُوا بانو علی اصغرؑ شہید
پیاس بچے کی بُجھائی حُرملہ کے تیر نے
کہتی تھی بانو ہوا وارث بھی میرا ہائے قتل
خوب لوٹا مجھ کو جنگل میں مِری تقدیر نے