Showing posts with label متفرق شعرا. Show all posts
Showing posts with label متفرق شعرا. Show all posts

Wednesday, 16 August 2023

تو وہاں کیسی ہے مجھ کو کیا بتائے گا جہاں

 اک سمندر درمیاں ہے، اک سمندر درمیاں


تُو وہاں کیسی ہے مجھ کو، کیا بتائے گا جہاں 

کیسے تیری یاد پھیلی، ہر گلی اور ہر مکاں 

چاہتا ہوں پُھول بھِیجوں، پر تجھے کیسے وہاں 

اک سمندر درمیاں ہے، اک سمندر درمیاں 


غم کے بادل آ گئے ہیں، اب بھلا کیسے چھٹیں 

Monday, 14 August 2023

غم کی فصلیں اگ جاتی ہیں کاٹیں گے ہم خوشیاں کیسے

 غم کی فصلیں اُگ جاتی ہیں کاٹیں گے ہم خوشیاں کیسے

اُجیارے کو ڈس جاتی ہیں مایوسی کی رتیاں کیسے

ہر اک چڑیا اُڑ جائے گی گھر کے پھیلے آنگن سے

تنہائی کے ڈیروں میں ہم ڈھونڈیں گے وہ سکھیاں کیسے

دن ڈھلنے کے سارے موسم آنکھ میں پنہاں رہتے ہیں

بیٹھ کے خالی دروازے پر یاد کروں وہ گلیاں کیسے

Thursday, 10 November 2022

ہر دم درود سرور عالم کہا کروں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر دم درود سرورؐ عالم کہا کروں

ہر لمحہ محوِ رُوئے مکرمؐ رہا کروں

اسم رسولﷺ ہو گا، مداوائے دردِ دل

صلِ علیٰؐ سے دل کے دُکھوں کی دوا کروں

ہر سطر اس کی اسوۂ ہادیﷺ کی ہو گواہ

اس طرح حالِ احمدﷺ مُرسل کہا کروں

Thursday, 8 September 2022

مغموم نہ ہو حرف کو پابند ثنا کر

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مغموم نہ ہو حرف کو پابندِ ثناﷺ کر

سرکارؐ نوازیں گے مدینے میں بُلا کر

اے قریۂ محبوبؐ سے آئی ہوئی خوشبو

آ کوچۂ احساس میں، سانسوں میں رہا کر

اے مالکِ کُل! میری تمنا کا بھرم رکھ

لایا ہوں دعاؤں کو بھی نعتوں میں سجا کر

باوضو ہو کر مرے سرکار کی باتیں کریں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


باوضو ہو کر مِرے سرکارؐ کی باتیں کریں 

انؐ کے پاکیزہ لب و رخسار کی باتیں کریں 

شاہؐ دیں کا تذکرہ چھیڑیں ہر اک محفل میں ہم

اب نہ ہرگز لغو اور بے کار کی باتیں کریں 

بدر کے میداں میں پہنچا سر پہ جو باندھے کفن 

آؤ پھر اس صاحبِ تلوارﷺ کی باتیں کریں 

یا محمد آپ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یا محمدؐ! آپﷺ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس

میری روحِ مضطرب نے وہ خوشی پائی کہ بس

گونج اٹھا جب فضا میں نغمۂ صلِّ علی

رحمتوں کی ہر طرف ایسی گھٹا چھائی کہ بس

فرش پر مخلوق ساری سوچتی ہی رہ گئی

عرش پر ان کی ہوئی ایسی پذیرائی کہ بس

Friday, 2 September 2022

اس قدر شہر نبی میں جو سکوں ہے یوں ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دور ہر سلسلۂ فکرِ زبوں ہے، یوں ہے

اس قدر شہرِ نبیؐ میں جو سکوں ہے، یوں ہے

سرورِ دیںﷺ کی غلامی کا شرف ہے حاصل

میری عزت جو زمانے میں فزوں ہے، یوں ہے

اس درِ پاکﷺ کا ہر حال میں لازم ہے ادب

پیرہن ہوش کا پہنے جو جنوں ہے، یوں ہے

میں نعت شفیع امم لکھ رہا ہوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں نعتِ شفیعِ اممﷺ لکھ رہا ہوں

میں ان کو خدا کا کرم لکھ رہا ہوں

وہ مولا سے اُمّی لقب پانے والے

انہیں تاجدارِ حرمﷺ لکھ رہا ہوں

ہیں شافعِ روزِ جزا میرے آقاﷺ

تبھی ان کو ابرِ کرم لکھ رہا ہوں

Tuesday, 23 August 2022

ام معبد کی نظم در وصف نبی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

 ام معبد کی نظم در وصف نبیﷺ


قالت أُمِّ مَعْبَدٍ فی وصف النبیﷺ


رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الوَضَأَةِ

أَبْلَجَ الوَجْهِ

حَسَنَ الخَلْقِ

لَمْ تَعِبْهُ ثُجْلَةٌ

آیا جو شوہر ام معبد تھکا ہوا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

 بیان ام معبدؓ بر محمد مصطفیٰﷺ


آیا جو شوہرِ ام معبدؓ تھکا ہوا

برتن میں دودھ دیکھ کے حیران رہ گیا

بڑھیا نے پھر سنایا اسے سارا ماجرا

کرنے لگی بیاں وہ سراپا رسولﷺ کا

وصفِ نبیﷺ کا ایک نیا باب کھل گیا

سارا غبار شرک و معاصی کا دُھل گیا

بولی عفیفہ مادر معبد کیا کہوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

 بیان ام معبدؓ بر محمد مصطفیٰﷺ


بولی عفیفہ مادرِ معبدؓ؛ کیا کہوں؟

حیران ہوں کہ اس کا سراپا بیاں کرو

اوصاف اس حبیبؐ کے میں کس طرح گنوں

اس کے حسین وجود کو تشبیہ کس سے دوں

وہ پیکر جمیل، سراپا جمال ہے

وہ شکل جمیل اور وہ نوری خد و خال

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وہ شکلِ جمیل اور وہ نوری خد و خال

اللہ رے موزونیتِ حسن و جمالﷺ

یہ سنبل پیچاں،۔ یہ گلاب و گوہر

ہرگز نہیں زلف و لب و دنداں کی مثال

وہ آنکھیں اگر چشمِ تصور دیکھے

جولاں ہمارے دشتِ تخیل کا غزال

یہ عرض آپ سے ہے اور بڑے ادب سے ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ عرض آپؐ سے ہے اور بڑے ادب سے ہے

حضورؐ مجھ کو بھی آنے کا شوق کب سے ہے

حضورؐ آپؐ تو واقف ہیں اس حقیقت سے

یہ اضطراب میرے دل میں کس سبب سے ہے

لگا سکے گا مِری کون عظمتوں کا سراغ

کہ دھڑکنوں کا تعلق شہ عربؐ سے ہے

آمد خیرالبشر ہے مرحبا صد مرحبا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آمدِ خیرالبشرﷺ ہے مرحبا، صد مرحبا

نور سے بھیگی سحر ہے مرحبا، صد مرحبا

مل گیا جو بیٹیوں کو تمغۂ رحمت یہاں

ان کی حکمت کا ثمر ہے مرحبا صد مرحبا

رشک کرتے ہیں سبھی میرا نصیبا دیکھ کر

جانبِ طیبہ سفر ہے مرحبا، صد مرحبا

ہے ذکر ان کا بالا قرآن کہہ رہا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 ہے ذکر انؐ کا بالا قرآن کہہ رہا ہے

اعلٰی ہے انؐ کا رتبہ قرآن کہہ رہا ہے

لوگوں کے واسطے ہے اک بہتریں نمونہ

کردار مصطفٰیﷺ کا قرآن کہہ رہا ہے

سرکارِ ہر جہاں کو کون و مکاں کی خاطر

رحمت بنا کے بیجھا قرآن کہہ رہا ہے

ان سے عقیدت کا یہ تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


انؐ سے عقیدت کا یہ تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

ان کے نام پہ جینا مرنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

وہ کہتا ہے صرف بشر تھے، میں کہتا ہوں نور بھی ہیں

اس کا گماں اور میرا دعویٰ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

میں تو رحمت بھیجتا ہوں، تم ان پر درود سلام پڑھو

قرآں میں یہ حکم خدا کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

Saturday, 13 August 2022

اللہ کا احسان ہے ہمارا پاکستان ہے

 ملی/قومی گیت/نغمہ


ماؤں کی دعا پوری ہوئی اور ہمیں

اتنی پیاری دنیا میں گھر مل گیا

اللہ کا احسان ہے، ہمارا پاکستان ہے

ہم آن، ہم شان، ہم اس کی جان ہیں، ہم پاکستان ہیں

ہم اس کی جان ہیں، ہم پاکستان ہیں

میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پہ نثار کر دوں

 ملی/قومی گیت/نغمہ


میرے وطن یہ عقیدتیں اور

پیار تجھ پہ نثار کر دوں

محبتوں کے یہ سلسلے

بے شمار تجھ پہ نثار کر دوں


میرے وطن میرے بس میں ہو تو

تیری حفاظت کروں میں ایسے

Tuesday, 9 August 2022

اللہ اللہ شہہ ارض و سما آج کی رات

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اللہ اللہ شہِﷺ ارض و سما آج کی رات 

بزمِ قوسَین میں ہیں، جلوہ نُما آج کی رات

قابلِ دید ہے رتبہ، یہ تِراﷺ آج کی رات

تاجِ لولاک لما سر پہ سجا آج کی رات

حسنِ مُطلق نے بصد شوق کہا آج کی رات

چاہے جو مانگ لے، اے شاہِ دناؐ آج کی رات

Monday, 8 August 2022

کی نہ کچھ عقدہ کشائی ناخن تدبیر نے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر شہدائے کربلا


کی نہ کچھ عقدہ کشائی ناخنِ تدبیر نے

کربلا پہنچا دیا ہے عشق کی تاثیر نے

کہتے تھے شہؑ لو ہُوا بانو علی اصغرؑ شہید

پیاس بچے کی بُجھائی حُرملہ کے تیر نے

کہتی تھی بانو ہوا وارث بھی میرا ہائے قتل

خوب لوٹا مجھ کو جنگل میں مِری تقدیر نے