یہ زخمِ دل ہرا ہونے کا مطلب
دوبارہ سامنا ہونے کا مطلب
ہمارے بیچ قربت ہی نہیں تھی
ہمارے پھر جدا ہونے کا مطلب
تمہاری بھی حفاظت ہم کریں گے
تمہارے پھر خدا ہونے کا مطلب
یہ زخمِ دل ہرا ہونے کا مطلب
دوبارہ سامنا ہونے کا مطلب
ہمارے بیچ قربت ہی نہیں تھی
ہمارے پھر جدا ہونے کا مطلب
تمہاری بھی حفاظت ہم کریں گے
تمہارے پھر خدا ہونے کا مطلب
بدل گئی ترے دل کی فضا خدا حافظ
کریں گے کیا یہاں اہلِ وفا خدا حافظ
ترے سوا بھی کئی لوگ مجھ سے بچھڑے ہیں
سنا ہے میں نے کئی مرتبہ خدا حافظ
کسی نے چُپکے سے رستہ بدل لیا اپنا
کسی نے شور مچا کر کہا خدا حافظ
جب بچھڑنے کا فیصلہ کیا تھا
ہم نے آپس میں مشورہ کیا تھا
دشت نے قیس سے کئی دن تک
میری وحشت کا تذکرہ کیا تھا
خودکشی کا بھی راستہ تھا مگر
ہم نے جینے کا فیصلہ کیا تھا
تار وحشت سے رفو کر سکیں ارمانوں کو
یہ اجازت تو ملے چاک گریبانوں کو
یہ جو برباد گلی تم کو نظر آتی ہے
اس نے آباد رکھا ہے کئی دیوانوں کو
بزم مرکز میں سجاتے ہو شناسائی کی
اور بلاتے ہو مضافات سے بیگانوں کو