تار وحشت سے رفو کر سکیں ارمانوں کو
یہ اجازت تو ملے چاک گریبانوں کو
یہ جو برباد گلی تم کو نظر آتی ہے
اس نے آباد رکھا ہے کئی دیوانوں کو
بزم مرکز میں سجاتے ہو شناسائی کی
اور بلاتے ہو مضافات سے بیگانوں کو
یاد آتا ہے تِرا عہد محبت مجھ کو
دیکھتا ہوں میں اگر کانچ کے گلدانوں کو
ہائے وہ شخص بھی خاموش کھڑا ہے شرجیل
جس کی آواز کی عادت ہے مِرے کانوں کو
شرجیل انصاری
No comments:
Post a Comment