Friday, 14 May 2021

تار وحشت سے رفو کر سکیں ارمانوں کو

تار وحشت سے رفو کر سکیں ارمانوں کو

یہ اجازت تو ملے چاک گریبانوں کو

یہ جو برباد گلی تم کو نظر آتی ہے

اس نے آباد رکھا ہے کئی دیوانوں کو

بزم مرکز میں سجاتے ہو شناسائی کی

اور بلاتے ہو مضافات سے بیگانوں کو

یاد آتا ہے تِرا عہد محبت مجھ کو

دیکھتا ہوں میں اگر کانچ کے گلدانوں کو

ہائے وہ شخص بھی خاموش کھڑا ہے شرجیل

جس کی آواز کی عادت ہے مِرے کانوں کو


شرجیل انصاری

No comments:

Post a Comment