عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں
اک دوسرے کو ہم نے کبھی بھولنا نہیں
ممکن ہے بھول جائے کبھی ایک عمر بعد
بے کار کھپ رہا ہے ابھی بھولنا نہیں
رکھ لینا لاج قبر میں، میدانِ حشر میں
اس امتی کو میرے نبیﷺ، بھولنا نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں
اک دوسرے کو ہم نے کبھی بھولنا نہیں
ممکن ہے بھول جائے کبھی ایک عمر بعد
بے کار کھپ رہا ہے ابھی بھولنا نہیں
رکھ لینا لاج قبر میں، میدانِ حشر میں
اس امتی کو میرے نبیﷺ، بھولنا نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات
اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات
حضورؐ آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں
حضورﷺ آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات
حضورﷺ آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے
زمین و آسماں یعنی تمام کائنات
لیتا ہے تیرا کیا بھلا بوڑھا شجر نہ کاٹ
اس پر ہیں دیکھ کتنے پرندوں کے گھرنہ کاٹ
اچھا ہے کام، شوق سے پودے نئے لگا
لیکن خدا کا نام تناور شجر نہ کاٹ
کرنے دے انحصار سبھی کو اڑان پر
منصف ہے تو کسی بھی پرندے کے پر نہ کاٹ
یہ نہیں کہ اس پہ کہا اثر نہیں کر رہا
وہ تو کوئی کام بھی سوچ کر نہیں کر رہا
تِرے فیصلوں ہر کوئی بھی شہر میں خوش نہیں
میں یہ بات اپنے ہی طور پر نہیں کر رہا
میں خود اپنی مرضی سے کر رہا ہو یہ خود کشی
میں یہ فیصلہ کسی جبر پر نہیں کر رہا