Showing posts with label اکرم ناصر. Show all posts
Showing posts with label اکرم ناصر. Show all posts

Friday, 27 February 2026

آؤ کریں یہ وعدہ سبھی بھولنا نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں

اک دوسرے کو ہم نے کبھی بھولنا نہیں

ممکن ہے بھول جائے کبھی ایک عمر بعد

بے کار کھپ رہا ہے ابھی بھولنا نہیں

رکھ لینا لاج قبر میں، میدانِ حشر میں

اس امتی کو میرے نبیﷺ، بھولنا نہیں

Tuesday, 24 February 2026

حضور آپ کا رستہ ہی تو ہے راہ نجات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات

اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات

حضورؐ آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں

حضورﷺ آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات

حضورﷺ آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے

زمین و آسماں یعنی تمام کائنات

Saturday, 26 October 2024

لیتا ہے تیرا کیا بھلا بوڑھا شجر نہ کاٹ

 لیتا ہے تیرا کیا بھلا بوڑھا شجر نہ کاٹ

اس پر ہیں دیکھ کتنے پرندوں کے گھرنہ کاٹ

اچھا ہے کام، شوق سے پودے نئے لگا

لیکن خدا کا نام تناور شجر نہ کاٹ

کرنے دے انحصار سبھی کو اڑان پر

منصف ہے تو کسی بھی پرندے کے پر نہ کاٹ

Friday, 18 December 2020

یہ نہیں کہ اس پہ کہا اثر نہیں کر رہا

یہ نہیں کہ اس پہ کہا اثر نہیں کر رہا

وہ تو کوئی کام بھی سوچ کر نہیں کر رہا

تِرے فیصلوں ہر کوئی بھی شہر میں خوش نہیں

میں یہ بات اپنے ہی طور پر نہیں کر رہا

میں خود اپنی مرضی سے کر رہا ہو یہ خود کشی

میں یہ فیصلہ کسی جبر پر نہیں کر رہا