اک تیری آواز کے تعاقب میں
ناجانے میں نے کتنے نمبر بدلے
کہ کسی طرح تم میرا فون اٹھاؤ
اور ادھر سے چنچل سی آواز میرے کانوں میں گونجے
اور میں ہواؤں میں اڑنے لگوں
مگر پھر خوشی دم توڑے
اک تیری آواز کے تعاقب میں
ناجانے میں نے کتنے نمبر بدلے
کہ کسی طرح تم میرا فون اٹھاؤ
اور ادھر سے چنچل سی آواز میرے کانوں میں گونجے
اور میں ہواؤں میں اڑنے لگوں
مگر پھر خوشی دم توڑے
کہ حال دل کا جہان بھر کو سن لیا بھی تو کیا کروں گا
جو اس پہ دل میں غموں کا دریا چھپا لیا بھی تو کیا کروں گا
عجیب دُکھ ہے کے تیرا ہو کر بھی تیرا ہونے سے ڈر رہا ہوں
عجیب دُکھ ہے کہ تم کو اپنا بنا لیا بھی تو کیا کروں گا
جُدا جُدا تھے جُدا جُدا ہیں، خدا خدا تھا، خدا خدا ہے
مگر یہ قصہ تمہیں مکمل سنا لیا بھی تو کیا کروں گا
رات کے پچھلے پہر
چمکتے چاند کو دیکھتے
اور تارے گن گن کر رات بسر کرنے
نصف دن میں تپتے سورج کی تپش
میں جلنے والا مزدور
ٹرین میں بیٹھا کر کسی اپنے کو
کہا کس نے یہ تم سے کہ محبت میں نہیں کرتا
مگر یہ بات بھی سچ ہے شکایت میں نہیں کرتا
قبیلے کی میں حالت دیکھ کر ہونے لگا پاگل
مگر کچھ سوچ کر جانے بغاوت میں نہیں کرتا
خدا نے جو دیا جتنا میں اس پہ ہی راضی ہوں
کسی کو دیکھ کر بہتر عداوت میں نہیں کرتا
اس طرح غم زدہ دل اگر ہی رہا
خیر پھر میں ادھر یا جدھر ہی رہا
دل کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف
ہر طرف سے مگر بے خبر ہی رہا
شام ہی کی طرح میں بُجھا سا رہا
وہ ازل سے ہی شوخ و سحر ہی رہا
زلف چہرے سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے
جام نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے
غم ہیں اتنے کہ دو بوندوں سے مِرا کیا ہو گا
سارا مے خانہ پلاؤ تو کوئی بات بنے
یاد مےخانے کے آداب سبھی ہیں مجھ کو
سارے رندو کو بلاؤ تو کوئی بات بنے