Showing posts with label ادریس اکبر. Show all posts
Showing posts with label ادریس اکبر. Show all posts

Friday, 30 December 2022

اک تیری آواز کے تعاقب میں

 اک تیری آواز کے تعاقب میں

ناجانے میں نے کتنے نمبر بدلے

کہ کسی طرح تم میرا فون اٹھاؤ

اور ادھر سے چنچل سی آواز میرے کانوں میں گونجے

اور میں ہواؤں میں اڑنے لگوں

مگر پھر خوشی دم توڑے

Thursday, 15 September 2022

کہ حال دل کا جہان بھر کو سن لیا بھی تو کیا کروں گا

 کہ حال دل کا جہان بھر کو سن لیا بھی تو کیا کروں گا

جو اس پہ دل میں غموں کا دریا چھپا لیا بھی تو کیا کروں گا

عجیب دُکھ ہے کے تیرا ہو کر بھی تیرا ہونے سے ڈر رہا ہوں

عجیب دُکھ ہے کہ تم کو اپنا بنا لیا بھی تو کیا کروں گا

جُدا جُدا تھے جُدا جُدا ہیں، خدا خدا تھا، خدا خدا ہے

مگر یہ قصہ تمہیں مکمل سنا لیا بھی تو کیا کروں گا

Thursday, 8 September 2022

تمہارے بچھڑ جانے کا غم منا رہا ہوں

 رات کے پچھلے پہر

چمکتے چاند کو دیکھتے

اور تارے گن گن کر رات بسر کرنے 

نصف دن میں تپتے سورج کی تپش

میں جلنے والا مزدور

ٹرین میں بیٹھا کر کسی اپنے کو

Tuesday, 1 February 2022

کہا کس نے یہ تم سے کہ محبت میں نہیں کرتا

کہا کس نے یہ تم سے کہ محبت میں نہیں کرتا

مگر یہ بات بھی سچ ہے شکایت میں نہیں کرتا

قبیلے کی میں حالت دیکھ کر ہونے لگا پاگل

مگر کچھ سوچ کر جانے بغاوت میں نہیں کرتا

خدا نے جو دیا جتنا میں اس پہ ہی راضی ہوں

کسی کو دیکھ کر بہتر عداوت میں نہیں کرتا

Friday, 2 July 2021

اس طرح غمزدہ دل اگر ہی رہا

 اس طرح غم زدہ دل اگر ہی رہا

خیر پھر میں ادھر یا جدھر ہی رہا

دل کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف

ہر طرف سے مگر بے خبر ہی رہا

شام ہی کی طرح میں بُجھا سا رہا

وہ ازل سے ہی شوخ و سحر ہی رہا

Tuesday, 30 March 2021

زلف چہرے سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے

 زلف چہرے سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے

جام نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے

غم ہیں اتنے کہ دو بوندوں سے مِرا کیا ہو گا

سارا مے خانہ پلاؤ تو کوئی بات بنے

یاد مےخانے کے آداب سبھی ہیں مجھ کو

سارے رندو کو بلاؤ تو کوئی بات بنے