Friday, 2 July 2021

اس طرح غمزدہ دل اگر ہی رہا

 اس طرح غم زدہ دل اگر ہی رہا

خیر پھر میں ادھر یا جدھر ہی رہا

دل کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف

ہر طرف سے مگر بے خبر ہی رہا

شام ہی کی طرح میں بُجھا سا رہا

وہ ازل سے ہی شوخ و سحر ہی رہا

عمر بھر سوچ میں میں تو سو نا سکا

تھا عدو جس طرف دل ادھر ہی رہا

زندگی بے سبب ہی کٹی ہے یہاں

مر چلے وہ مگر بے فکر ہی رہا


ادریس اکبر

No comments:

Post a Comment