اس طرح غم زدہ دل اگر ہی رہا
خیر پھر میں ادھر یا جدھر ہی رہا
دل کبھی اس طرف تو کبھی اس طرف
ہر طرف سے مگر بے خبر ہی رہا
شام ہی کی طرح میں بُجھا سا رہا
وہ ازل سے ہی شوخ و سحر ہی رہا
عمر بھر سوچ میں میں تو سو نا سکا
تھا عدو جس طرف دل ادھر ہی رہا
زندگی بے سبب ہی کٹی ہے یہاں
مر چلے وہ مگر بے فکر ہی رہا
ادریس اکبر
No comments:
Post a Comment