قدیم لمحے
قدیم لمحے اداس آنکھوں میں تیرتے ہیں
کہ جیسے اجڑے مکاں سے لپٹی بیلیں
نئے شگوفوں کی خواہشیں ہوں
اداس آنکھیں
خلاؤں میں کیا تلاشتی ہیں
قدیم لمحے
قدیم لمحے اداس آنکھوں میں تیرتے ہیں
کہ جیسے اجڑے مکاں سے لپٹی بیلیں
نئے شگوفوں کی خواہشیں ہوں
اداس آنکھیں
خلاؤں میں کیا تلاشتی ہیں
کچھ تو کہو نا
شاردہ دیوی یاد ہے تجھ کو
کشن گنگا کی لہر لہر نے تجھ کو نیلم پہنائے تھے
جنم جنم کے ساتھی دریا کیا کیا یاد دلاؤں تجھ کو
راگ ملہار کھماج درباری کچھ بھی تجھ کو یاد نہیں ہے
میری چیڑ اور دیوداروں سے میرا نام مٹانے والے
اے امام الزماں آپ کب آئیں گے
اے امام الزماں
اے امام الزماں آپ کب آئیں گے
اہلِ کشمیر ہیں منتظر آپ کے
منتظر آپ کی میری آنکھیں بھی ہیں
جل گیا کاشمر، لُٹ گیا کاشمر
پُرانے زخم دھونا چاہتی ہوں
میں گہری نیند سونا چاہتی ہوں
تمہارے خواب آنکھوں میں بسا کر
تمہی سے دور ہونا چاہتی ہوں
بھنور سے پیار کی خواہش بجا ہے
وجود اپنا ڈبونا چاہتی ہوں
حصارِ چشمِ محبت، تیرا خدا حافظ
نہیں ہے تجھ سے شکایت، تیرا خدا حافظ
تمہارے کنجِ قفس میں یہ دم لگا گُھٹنے
نہیں ہوئی تیری عادت، تیرا خدا حافظ
ہم اپنے حرف میں شمعیں نئی جلائیں گے
اندھیری رات کی مہلت، تیرا خدا حافظ
میری ہر ایک صبح کو، روزِ حساب کر دیا
تِیرہ دِلانِ شہر نے جینا عذاب کر دیا
دل پر گزر گئی ہے کیا اس کو خبر نہیں کوئی
وہ تو امیرِ شہر ہے، اس نے خطاب کر دیا
مرکز و محورِ حیات میں نے جسے بنا لیا
وہ تو بس ایک باب تھا میں نے کتاب کر دیا