Showing posts with label آمنہ بہار. Show all posts
Showing posts with label آمنہ بہار. Show all posts

Tuesday, 5 October 2021

قدیم لمحے اداس آنکھوں میں تیرتے ہیں

 قدیم لمحے


قدیم لمحے اداس آنکھوں میں تیرتے ہیں

کہ جیسے اجڑے مکاں سے لپٹی بیلیں

نئے شگوفوں کی خواہشیں ہوں

اداس آنکھیں

خلاؤں میں کیا تلاشتی ہیں

Saturday, 2 October 2021

چپ کیوں ہو اب کچھ تو کہو نا

کچھ تو کہو نا


شاردہ دیوی یاد ہے تجھ کو

کشن گنگا  کی لہر لہر نے تجھ کو نیلم پہنائے تھے 

جنم جنم کے ساتھی دریا کیا کیا یاد دلاؤں تجھ کو

راگ ملہار کھماج درباری کچھ بھی تجھ کو یاد نہیں ہے

میری چیڑ اور دیوداروں سے میرا نام مٹانے والے

Wednesday, 29 September 2021

اے امام الزماں آپ کب آئیں گے

 اے امام الزماں آپ کب آئیں گے


اے امام الزماں

اے امام الزماں آپ کب آئیں گے

اہلِ کشمیر ہیں منتظر آپ کے

منتظر آپ کی میری آنکھیں بھی ہیں

جل گیا کاشمر، لُٹ گیا کاشمر

Tuesday, 28 September 2021

پرانے زخم دھونا چاہتی ہوں

پُرانے زخم دھونا چاہتی ہوں

میں گہری نیند سونا چاہتی ہوں

تمہارے خواب آنکھوں میں بسا کر

تمہی سے دور ہونا چاہتی ہوں

بھنور سے پیار کی خواہش بجا ہے

وجود اپنا ڈبونا چاہتی ہوں

Sunday, 1 August 2021

حصار چشم محبت تیرا خدا حافظ

 حصارِ چشمِ محبت، تیرا خدا حافظ

نہیں ہے تجھ سے شکایت، تیرا خدا حافظ

تمہارے کنجِ قفس میں یہ دم لگا گُھٹنے

نہیں ہوئی تیری عادت، تیرا خدا حافظ

ہم اپنے حرف میں شمعیں نئی جلائیں گے

اندھیری رات کی مہلت، تیرا خدا حافظ

Wednesday, 9 June 2021

میری ہر ایک صبح کو روز حساب کر دیا

 میری ہر ایک صبح کو، روزِ حساب کر دیا

تِیرہ دِلانِ شہر نے جینا عذاب کر دیا

دل پر گزر گئی ہے کیا اس کو خبر نہیں کوئی

وہ تو امیرِ شہر ہے، اس نے خطاب کر دیا

مرکز و محورِ حیات میں نے جسے بنا لیا

وہ تو بس ایک باب تھا میں نے کتاب کر دیا