عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ اک سجدہ علیؑ کا
وہ اک سجدہ علیؑ کا
جس سے مولا نے اٹھایا سر
تو چہرہ خون سے تر تھا
مِرے مولاؑ
قسم کعبے کے رب کی کھا کے
اپنی کامیابی کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ اک سجدہ علیؑ کا
وہ اک سجدہ علیؑ کا
جس سے مولا نے اٹھایا سر
تو چہرہ خون سے تر تھا
مِرے مولاؑ
قسم کعبے کے رب کی کھا کے
اپنی کامیابی کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مباہلے سے یہ جو داستاں ہوئی آغاز
تتمہ اس کا ہے سادہ بہ دشت کرب و بلا
حسینؑ، زینبؑ و عباسؑ، اکبرؑ و قاسمؑ
مباہلے کا اعادہ بہ دشت کرب و بلا
صراط حق کو شب و روز مانگنے والو
یہ دیکھو حق کا ہے جادہ بہ دشت کرب وبلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تلۂ زینبیہؑ
میں ٹیلے پر کھڑی یہ دیکھتی ہوں
کہ میرا بھائی جو کہتا تھا
وہ پورا ہوا ہے
محاذِ کربلا سر ہو چکا
اور اب
محاذِ شام میرے سامنے ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دین کی تاریخ میں اک خانوادہ معتبر
کون سا گھر ہے ابوطالب سے زیادہ معتبر
خلعتِ شاہی کی خواہش ہے نہ ملک و مال کی
فقر کا مجھ کو ہے یہ اپنا لبادہ معتبر
گُلشنِ جنّت ہے یا پھر گُلشنِ تطہیر ہے
ہے انہی دو گُلشنوں کا باد و بادہ معتبر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خوشبو
جو لفظ خوشبو نظر سے گزرا تو ذہن میں یہ خیال آیا
یہ ابتدا اس کےذکر کی ہے، ہے جس سے کل کائنات خُوشبو
وہ خوشبو جس کو ہمی سے چن کر، خدا نے ہم پر رسولؐ بھیجا
نہ ہم کو تکلیف ہو ذرا بھی، ہے فکر میں دن و رات خوشبو
بسائے رکھے جو اپنے دل میں، جو اپنی سانسوں کے ساتھ خوشبو
حریص لطف و کرم خدا سے ہے ان پہ یہ التفات خوشبو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قاتل کا قصیدہ
اگر میرے بھائی کا قاتل
کوئی اور ہوتا
تو میں تا ابد
اس پر آہ و بکا کرتی رہتی
مگر اُس کا قاتل