Showing posts with label شبیہ حیدر. Show all posts
Showing posts with label شبیہ حیدر. Show all posts

Sunday, 11 August 2024

وہ اک سجدہ علی کا جس سے مولا نے اٹھایا سر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

وہ اک سجدہ علیؑ کا


وہ اک سجدہ علیؑ کا

جس سے مولا نے اٹھایا سر

تو چہرہ خون سے تر تھا

مِرے مولاؑ

قسم کعبے کے رب کی کھا کے

اپنی کامیابی کا

Monday, 15 July 2024

مباہلے سے یہ جو داستاں ہوئی آغاز

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مباہلے سے یہ جو داستاں ہوئی آغاز

تتمہ اس کا ہے سادہ بہ دشت کرب و بلا

حسینؑ، زینبؑ و عباسؑ، اکبرؑ و قاسمؑ

مباہلے کا اعادہ بہ دشت کرب و بلا

صراط حق کو شب و روز مانگنے والو

یہ دیکھو حق کا ہے جادہ بہ دشت کرب وبلا

Sunday, 14 July 2024

تلۂ زینبیہ میں ٹیلے پر کھڑی یہ دیکھتی ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

تلۂ زینبیہؑ


میں ٹیلے پر کھڑی یہ دیکھتی ہوں

کہ میرا بھائی جو کہتا تھا

وہ پورا ہوا ہے

محاذِ کربلا سر ہو چکا

اور اب

محاذِ شام میرے سامنے ہے

Wednesday, 3 July 2024

دین کی تاریخ میں اک خانوادہ معتبر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دین کی تاریخ میں اک خانوادہ معتبر

کون سا گھر ہے ابوطالب سے زیادہ معتبر

خلعتِ شاہی کی خواہش ہے نہ ملک و مال کی

فقر کا مجھ کو ہے یہ اپنا لبادہ معتبر

گُلشنِ جنّت ہے یا پھر گُلشنِ تطہیر ہے

ہے انہی دو گُلشنوں کا باد و بادہ معتبر

Monday, 1 July 2024

کہ ہاتھ میرا ہے اور کوئی لکھا رہا ہے یہ نعت خوشبو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

خوشبو


جو لفظ خوشبو نظر سے گزرا تو ذہن میں یہ خیال آیا

یہ ابتدا اس کےذکر کی ہے، ہے جس سے کل کائنات خُوشبو

وہ خوشبو جس کو ہمی سے چن کر، خدا نے ہم پر رسولؐ بھیجا

نہ ہم کو تکلیف ہو ذرا بھی، ہے فکر میں دن و رات خوشبو

بسائے رکھے جو اپنے دل میں، جو اپنی سانسوں کے ساتھ خوشبو

حریص لطف و کرم خدا سے ہے ان پہ یہ التفات خوشبو

Sunday, 30 June 2024

اگر میرے بھائی کا قاتل کوئی اور ہوتا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 

قاتل کا قصیدہ


اگر میرے بھائی کا قاتل

کوئی اور ہوتا

تو میں تا ابد

اس پر آہ و بکا کرتی رہتی

مگر اُس کا قاتل