سوئے ہوئے جھنجھوڑ کے ہم لوگ سو گئے
لوگوں کے خواب توڑ کے ہم لوگ سو گئے
ہم کو گماں تھا جاگ کے روئیں گے رات بھر
تیری گلی کو چھوڑ کے ہم لوگ سو گئے
یخ بستہ رات اور یہ غربت کی اوڑھنی
اپنا بدن سکوڑ کے ہم لوگ سو گئے
سوئے ہوئے جھنجھوڑ کے ہم لوگ سو گئے
لوگوں کے خواب توڑ کے ہم لوگ سو گئے
ہم کو گماں تھا جاگ کے روئیں گے رات بھر
تیری گلی کو چھوڑ کے ہم لوگ سو گئے
یخ بستہ رات اور یہ غربت کی اوڑھنی
اپنا بدن سکوڑ کے ہم لوگ سو گئے
زندگی لمس کی حدت سے جڑی ہے؟ نہیں تو
کیا گھڑی ہاتھ لگانے سے رکی ہے، نہیں تو
میرے ٹکڑوں کو گِنو، گِن کے سمیٹو، دیکھو
میں مکمل ہوں، کہیں مجھ میں کمی ہے، نہیں تو
ہم پرندے ہیں وراثت کی حفاظت کے امیں
ورنہ شاخوں میں کوئی شاخ ہری ہے، نہیں تو
موت آندھی ہے مگر ان کو صبا لگتی ہے
زندگی دشت کے ماروں کو سزا لگتی ہے
دھیرے دھیرے جو سسکتا ہے دیا کمرے میں
یہ یقیناً کہیں شعلے کو ہوا لگتی ہے
چند سکوں کے عوض لوگ دعا دیتے ہیں
کیا یوں خیرات کے بدلے میں دعا لگتی ہے
یعنی وہ میں تھا جسے مجھ سے پریشانی تھی
ورنہ، اس دشت میں ہر گام تو ویرانی تھی
خواب کے خوف سے پلکوں کو جھپکتا ہی رہا
ورنہ، کل رات مجھے نیند تو آ جانی تھی
یہ تو لوگوں کو دکھانے کے لیے مان لیا
ورنہ میں نے تِری ہر بات کہاں مانی تھی
جھیل کی انگڑائیوں میں چل پڑا
چاند چھُپ کر بادلوں میں چل پڑا
کس مسیحا نے کلائی تھام لی
خون میری سب رگوں میں چل پڑا
بیٹھے بیٹھے سوچ کر میں آپ کو
ٹُوٹی پھُوٹی کشتیوں میں چل پڑا