Showing posts with label محسن احمد. Show all posts
Showing posts with label محسن احمد. Show all posts

Sunday, 26 February 2023

سوئے ہوئے جھنجھوڑ کے ہم لوگ سو گئے

 سوئے ہوئے جھنجھوڑ کے ہم لوگ سو گئے

لوگوں کے خواب توڑ کے ہم لوگ سو گئے

ہم کو گماں تھا جاگ کے روئیں گے رات بھر

تیری گلی کو چھوڑ کے ہم لوگ سو گئے

یخ بستہ رات اور یہ غربت کی اوڑھنی

اپنا بدن سکوڑ کے ہم لوگ سو گئے

Tuesday, 11 January 2022

زندگی لمس کی حدت سے جڑی ہے نہیں تو

 زندگی لمس کی حدت سے جڑی ہے؟ نہیں تو

کیا گھڑی ہاتھ لگانے سے رکی ہے، نہیں تو

میرے ٹکڑوں کو گِنو، گِن کے سمیٹو، دیکھو

میں مکمل ہوں، کہیں مجھ میں کمی ہے، نہیں تو

ہم پرندے ہیں وراثت کی حفاظت کے امیں

ورنہ شاخوں میں کوئی شاخ ہری ہے، نہیں تو

Sunday, 9 January 2022

موت آندھی ہے مگر ان کو صبا لگتی ہے

 موت آندھی ہے مگر ان کو صبا لگتی ہے

زندگی دشت کے ماروں کو سزا لگتی ہے

دھیرے دھیرے جو سسکتا ہے دیا کمرے میں

یہ یقیناً کہیں شعلے کو ہوا لگتی ہے

چند سکوں کے عوض لوگ دعا دیتے ہیں

کیا یوں خیرات کے بدلے میں دعا لگتی ہے 

Friday, 9 July 2021

یعنی وہ میں تھا جسے مجھ سے پریشانی تھی

 یعنی وہ میں تھا جسے مجھ سے پریشانی تھی

ورنہ، اس دشت میں ہر گام تو ویرانی تھی

خواب کے خوف سے پلکوں کو جھپکتا ہی رہا

ورنہ، کل رات مجھے نیند تو آ جانی تھی

یہ تو لوگوں کو دکھانے کے لیے مان لیا

ورنہ میں نے تِری ہر بات کہاں مانی تھی

Tuesday, 11 May 2021

جھیل کی انگڑائیوں میں چل پڑا

 جھیل کی انگڑائیوں میں چل پڑا

چاند چھُپ کر بادلوں میں چل پڑا

کس مسیحا نے کلائی تھام لی

خون میری سب رگوں میں چل پڑا

بیٹھے بیٹھے سوچ کر میں آپ کو

ٹُوٹی پھُوٹی کشتیوں میں چل پڑا

Saturday, 8 August 2020

تو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا

تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا 
تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا
یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں
"وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا"
یہ تِرے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے
تُو بدن چاٹ کے الفت سے مُکر جائے گا

اک در پہ سر جھکا لیا راہیں بدل گئیں

اک در پہ سر جھکا لیا، راہیں بدل گئیں
جتنی بلائیں سر پہ تھیں ساری ہی ٹل گئیں
اک ہاتھ ہم نے چوم کے آنکھوں پہ کیا رکھا 
موسم کی ساری شدتیں نرمی میں ڈھل گئیں 
شک کی لگی جو آگ تو اٹھنے لگا دھواں 
سب رسیاں یقین کی لمحوں میں جل گئیں 

یہ کیا کہ تیرے ہوتے بھی کوئی اداس ہو

یہ کیا کہ تیرے ہوتے بھی کوئی اداس ہو 
جیسے کوئی رعایتی نمبر سے پاس ہو 
یہ کیا کہ حرف حرف سے ٹپکے ہوس کی رال 
یہ کیا کہ شعر شعر میں جسموں کی باس ہو 
یہ کیا کہ عشق ہو تو پھر اس میں نہ ہو مٹھاس 
پھل ہو تو پھر ضروری ہے اس میں مٹھاس ہو 

Saturday, 15 February 2020

بنجر زمیں کے واسطے آنسو سنبھال کر

بنجر زمیں کے واسطے آنسو سنبھال کر
میں لے چلا ہوں آگ سے دریا نکال کر
علم و ہنر کے واسطے پُرکھوں کے پاس بیٹھ
اک بات پوچھ، بات پہ ڈھیروں سوال کر
روکیں اگر یہ راستہ، سینے سے کھینچ لے
اتنا نہیں ہے وقت کے سانسیں بحال کر

گھپ اندھیرا تھا جا بجا مجھ میں

گھپ اندھیرا تھا جا بجا مجھ میں
رات رہتی تھی باخدا مجھ میں
میں تو سر کو جھکائے بیٹھا تھا
عشق نے سر اٹھا لیا مجھ میں
غم یہاں سے نکل نہیں پایا
چار جانب تھا حاشیہ مجھ میں

یک بہ یک جھوم اٹھا نفس کو غارت کر کے

یک بہ یک جھوم اٹھا نفس کو غارت کر کے
ایک درویش تِرے ہاتھ پہ بیعت کر کے
میں تِرا نام بھی لیتا نہیں آسانی میں
کیا نکلتا کسی مشکل سے تلاوت کر کے
دل نہ ہو، در پہ لگائی ہوئی گھنٹی ہو میاں
بھاگ جاتے ہیں سبھی لوگ شرارت کر کے