Tuesday, 11 May 2021

جھیل کی انگڑائیوں میں چل پڑا

 جھیل کی انگڑائیوں میں چل پڑا

چاند چھُپ کر بادلوں میں چل پڑا

کس مسیحا نے کلائی تھام لی

خون میری سب رگوں میں چل پڑا

بیٹھے بیٹھے سوچ کر میں آپ کو

ٹُوٹی پھُوٹی کشتیوں میں چل پڑا

میرے پہلو میں خدا تھا، اور میں

ڈُھونڈنے کو مسجدوں میں چل پڑا


محسن احمد

No comments:

Post a Comment