Showing posts with label احمد نواز. Show all posts
Showing posts with label احمد نواز. Show all posts

Tuesday, 5 April 2022

پہلے دنیا سے انحراف کیا

 پہلے دنیا سے انحراف کیا

پھر تِری ذات کا طواف کیا

جا مِرے یار! مُسکراتا رہ

میں نے آنسُو بہا معاف کیا

میں تِرے حق میں ٹوکتا ہوں تجھے

کس نے تُجھ کو مِرے خلاف کیا

Sunday, 20 March 2022

ہجر کو یار کا اوتار بنا رکھا ہے

 ہجر کو یار کا اوتار بنا رکھا ہے

اُس کی ہر یاد کو تہوار بنا رکھا ہے

میری نظروں میں نظر آتا ہے وہ آنکھوں کو

یار کا آئینہ بردار بنا رکھا ہے

اس کی یادوں کے حسیں پھول کھلا کر دل میں

دامنِ دشت کو گُلزار بنا رکھا ہے

Wednesday, 16 March 2022

دلربا ہے مگر جدا بھی نہیں

 دلربا ہے، مگر جُدا بھی نہیں

یہ تِرا حُسن کچھ نیا بھی نہیں

مجھ کو اس کی سمجھ نہیں آتی

اوِر وہ انسان ہے، خدا بھی نہیں

حد تو یہ ہے کہ بے وفائی پر

اس کو خفّت نہیں، ذرا بھی نہیں

Saturday, 26 February 2022

کیا عجب لوگ ہیں اور کیسی دعا مانگتے ہیں

 کیا عجب لوگ ہیں اور کیسی دعا مانگتے ہیں

رب سے سب کچھ ہی مگر رب کے سوا مانگتے ہیں

نیکیاں کرتے ہیں بس وہ جو موافق آئیں

اور پھر ان پہ جزا حسبِ رضا مانگتے ہیں

دیکھ کر حضرتِ انسان کی یہ بے قدری

مانگنے والے بھی بس بہرِ خدا مانگتے ہیں

Saturday, 12 February 2022

اہل زر کوچۂ افلاس کو کب دیکھتے ہیں

 اہلِ زر کوچۂ افلاس کو کب دیکھتے ہیں

وہ تو بس اپنا جہاں، اپنی طرب دیکھتے ہیں

دیکھتے کب ہیں وہ محرومیِ چشمِ مضطر

یوں تو کہتے ہیں کہ اب دیکھتے، اب دیکھتے ہیں

یوں بدل دیتا ہے جلوہ تیرا سب معمولات

چومنے لگتی ہیں آنکھیں تجھے، لب دیکھتے ہیں

Monday, 24 January 2022

حریم ذات میں پھر جاگزیں نہیں رہتا

 حریمِ ذات میں پھر جاگزیں نہیں رہتا

جو دلنشیں نہیں رہتا کہیں نہیں رہتا

کبھی کبھی مجھے تیرا گمان ہوتا ہے

کبھی کبھی مجھ اپنا یقیں نہیں رہتا

تو کون ہے مجھے چلمن سے جھانکنے والا

اگر مکان میں کوئی مکیں نہیں رہتا

Wednesday, 19 January 2022

اگرچہ اک فریب ہے جہان دلفریب ہے

 خرد کے گھاؤ


اگرچہ اک فریب ہے

جہان دلفریب ہے

قدم قدم پہ حیرتیں

جنم جنم ہیں حسرتیں

نظر نظر فراز ہے

Monday, 10 January 2022

تری ذات ذات ثبات ہے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


تِری ذات ذاتِ ثبات ہے

تِرا راز رازِ حیات ہے

تِرا حسن حسنِ جہان ہے

تُو ہی مالکِ حسنات ہے

تِرا نور نورِ مبین ہے

تُو ہی کاشفِ ظلمات ہے

Sunday, 2 January 2022

حسرت دید میں یہ کام بھی کر آیا ہوں

 حسرتِ دید میں یہ کام بھی کر آیا ہوں 

اپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر آیا ہوں

کر کے تجسیم تِری یاد کو لگتا ہے مجھے 

جیسے ماضی کے دریچے میں اُتر آیا ہوں

خواہشِ ہست و نمو مجھ میں تھی بے چین بہت 

خاک تھا چاک پہ آتے ہی نکھر آیا ہوں

Wednesday, 17 November 2021

سوز کو ساز کیا وجد کو وجدان کیا

 سوز کو ساز کیا، وجد کو وِجدان کیا

دل کو دالان کیا، یار کو مہمان کیا

حُجرۂ جسم میں معمول کا سناٹا تھا

پھر کسی لمس کی آواز نے حیران کیا

دے دیا تیرے تصور کے تصرف میں یہ دل

شمع فانوس ہوئی، گُل کو گُلِستان کیا