پہلے دنیا سے انحراف کیا
پھر تِری ذات کا طواف کیا
جا مِرے یار! مُسکراتا رہ
میں نے آنسُو بہا معاف کیا
میں تِرے حق میں ٹوکتا ہوں تجھے
کس نے تُجھ کو مِرے خلاف کیا
پہلے دنیا سے انحراف کیا
پھر تِری ذات کا طواف کیا
جا مِرے یار! مُسکراتا رہ
میں نے آنسُو بہا معاف کیا
میں تِرے حق میں ٹوکتا ہوں تجھے
کس نے تُجھ کو مِرے خلاف کیا
ہجر کو یار کا اوتار بنا رکھا ہے
اُس کی ہر یاد کو تہوار بنا رکھا ہے
میری نظروں میں نظر آتا ہے وہ آنکھوں کو
یار کا آئینہ بردار بنا رکھا ہے
اس کی یادوں کے حسیں پھول کھلا کر دل میں
دامنِ دشت کو گُلزار بنا رکھا ہے
دلربا ہے، مگر جُدا بھی نہیں
یہ تِرا حُسن کچھ نیا بھی نہیں
مجھ کو اس کی سمجھ نہیں آتی
اوِر وہ انسان ہے، خدا بھی نہیں
حد تو یہ ہے کہ بے وفائی پر
اس کو خفّت نہیں، ذرا بھی نہیں
کیا عجب لوگ ہیں اور کیسی دعا مانگتے ہیں
رب سے سب کچھ ہی مگر رب کے سوا مانگتے ہیں
نیکیاں کرتے ہیں بس وہ جو موافق آئیں
اور پھر ان پہ جزا حسبِ رضا مانگتے ہیں
دیکھ کر حضرتِ انسان کی یہ بے قدری
مانگنے والے بھی بس بہرِ خدا مانگتے ہیں
اہلِ زر کوچۂ افلاس کو کب دیکھتے ہیں
وہ تو بس اپنا جہاں، اپنی طرب دیکھتے ہیں
دیکھتے کب ہیں وہ محرومیِ چشمِ مضطر
یوں تو کہتے ہیں کہ اب دیکھتے، اب دیکھتے ہیں
یوں بدل دیتا ہے جلوہ تیرا سب معمولات
چومنے لگتی ہیں آنکھیں تجھے، لب دیکھتے ہیں
حریمِ ذات میں پھر جاگزیں نہیں رہتا
جو دلنشیں نہیں رہتا کہیں نہیں رہتا
کبھی کبھی مجھے تیرا گمان ہوتا ہے
کبھی کبھی مجھ اپنا یقیں نہیں رہتا
تو کون ہے مجھے چلمن سے جھانکنے والا
اگر مکان میں کوئی مکیں نہیں رہتا
خرد کے گھاؤ
اگرچہ اک فریب ہے
جہان دلفریب ہے
قدم قدم پہ حیرتیں
جنم جنم ہیں حسرتیں
نظر نظر فراز ہے
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
تِری ذات ذاتِ ثبات ہے
تِرا راز رازِ حیات ہے
تِرا حسن حسنِ جہان ہے
تُو ہی مالکِ حسنات ہے
تِرا نور نورِ مبین ہے
تُو ہی کاشفِ ظلمات ہے
حسرتِ دید میں یہ کام بھی کر آیا ہوں
اپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر آیا ہوں
کر کے تجسیم تِری یاد کو لگتا ہے مجھے
جیسے ماضی کے دریچے میں اُتر آیا ہوں
خواہشِ ہست و نمو مجھ میں تھی بے چین بہت
خاک تھا چاک پہ آتے ہی نکھر آیا ہوں
سوز کو ساز کیا، وجد کو وِجدان کیا
دل کو دالان کیا، یار کو مہمان کیا
حُجرۂ جسم میں معمول کا سناٹا تھا
پھر کسی لمس کی آواز نے حیران کیا
دے دیا تیرے تصور کے تصرف میں یہ دل
شمع فانوس ہوئی، گُل کو گُلِستان کیا