خرد کے گھاؤ
اگرچہ اک فریب ہے
جہان دلفریب ہے
قدم قدم پہ حیرتیں
جنم جنم ہیں حسرتیں
نظر نظر فراز ہے
ڈگر ڈگر نشیب ہے
جہان دلفریب ہے
تہِ وجود میں
کوئی وجُود ہاتھ نا لگے
کئی سُروں کو چُھو کے بھی
سرُود ہاتھ نا لگے
ازل سے جو ہےمنبعِ شہود، ہاتھ نا لگے
جو زیبِ دید ہو نہیں سکا
وہی تو حسنِ لاوجود دیدہ زیب ہے
جہان دِلفریب ہے
نظر کی مار سے پرے
حقیقتِ بعید ہے
یہ جَست بھر سی جستجو
متاعِ رہرواں ہے بس
جو جانتے ہیں راہ میں
مسافروں کی تاک میں
مسافتوں کی ہار ہے
مگر وہ من میں نم لیے
دقیق ریگزار میں
بنا کسی رفیق کے
زیاں گری میں مست ہیں
جو راستوں میں کٹ گئے
مگر سفر نہیں کٹا
چراغ کے سراغ میں
جو رزقِ تیرگی ہوئے
تلاشنے کی مشق
مثلِ جلق ہے
جو ذہن کے تناؤ کا اک عارضی علاج ہے
مگر خرد کے گھاؤ کا
کہاں کوئی علاج ہے
نگاہِ بے لباس کے لیے فقط
لبادۂ شکیب ہے
جہان اک فریب ہے
اگرچہ دلفریب ہے
جہان اک فریب ہے
احمد نواز
No comments:
Post a Comment