Wednesday, 19 January 2022

اگرچہ اک فریب ہے جہان دلفریب ہے

 خرد کے گھاؤ


اگرچہ اک فریب ہے

جہان دلفریب ہے

قدم قدم پہ حیرتیں

جنم جنم ہیں حسرتیں

نظر نظر فراز ہے

ڈگر ڈگر نشیب ہے

جہان دلفریب ہے

تہِ وجود میں

کوئی وجُود ہاتھ نا لگے

کئی سُروں کو چُھو کے بھی

سرُود ہاتھ نا لگے

ازل سے جو ہےمنبعِ شہود، ہاتھ نا لگے

جو زیبِ دید ہو نہیں سکا

وہی تو حسنِ لاوجود دیدہ زیب ہے

جہان دِلفریب ہے

نظر کی مار سے پرے

حقیقتِ بعید ہے

یہ جَست بھر سی جستجو

متاعِ رہرواں ہے بس

جو جانتے ہیں راہ میں

مسافروں کی تاک میں

مسافتوں کی ہار ہے

مگر وہ من میں نم لیے

دقیق ریگزار میں

بنا کسی رفیق کے

زیاں گری میں مست ہیں

جو راستوں میں کٹ گئے

مگر سفر نہیں کٹا

چراغ کے سراغ میں

جو رزقِ تیرگی ہوئے

تلاشنے کی مشق

مثلِ جلق ہے

جو ذہن کے تناؤ کا اک عارضی علاج ہے

مگر خرد کے گھاؤ کا

کہاں کوئی علاج ہے

نگاہِ بے لباس کے لیے فقط

لبادۂ شکیب ہے

جہان اک فریب ہے

اگرچہ دلفریب ہے

جہان اک فریب ہے


احمد نواز

No comments:

Post a Comment