Showing posts with label شایان قریشی. Show all posts
Showing posts with label شایان قریشی. Show all posts

Sunday, 25 September 2022

زخم سینے کا پھر ابھر آیا

 زخم سینے کا پھر ابھر آیا

یاد بھر کوئی چارہ گر آیا

مجھ کو بخشی خدا نے اک بیٹی

چاند آنگن میں اک اتر آیا

خوش نصیبوں کو گھر ملا یارو

میرے حصے میں پھر سفر آیا

Wednesday, 7 September 2022

زبانیں چپ رہیں لیکن مزاج یار بولے گا

 زبانیں چپ رہیں لیکن مزاجِ یار بولے گا

کہ تُو با ظرف ہے کتنا تِرا کردار بولے گا

نئی نسلوں کو کس نے کیا دیا ہے دیکھیے لیکن

مِرے اشعار میں تہذیب کا معیار بولے گا

وہ جس نے کھائے ہیں دھوکے محبت کر کے اپنوں سے

وہی تو خون کو پانی گُلوں کو خار بولے گا

Wednesday, 31 August 2022

شام کے ڈھلتے سورج نے یہ بات مجھے سمجھائی ہے

 شام کے ڈھلتے سورج نے یہ بات مجھے سمجھائی ہے

تاریکی میں دیکھ سکوں تو آنکھوں میں بینائی ہے

احساسات کی تہہ تک جانا کتنا مشکل ہوتا ہے

ذہن و دل میں جتنا اترو، اتنی ہی گہرائی ہے

رشتے ناطے باہر سے تو جسم کو گھیرے بیٹھے ہیں

روح کے اندر جھانک کے دیکھو میلوں تک تنہائی ہے

Tuesday, 30 August 2022

بکھری تھی ہر سمت جوانی رات گھنیری ہونے تک

بکھری تھی ہر سمت جوانی رات گھنیری ہونے تک

لیکن میں نے دل کی نہ مانی رات گھنیری ہونے تک

درد کا دریا بڑھتے بڑھتے سینے تک آ پہنچا ہے

اور چڑھے گا تھوڑا پانی رات گھنیری ہونے تک

آگ پہ چلنا قسمت میں ہے، برف پہ رُکنا مجبوری

کون سُنے گا اپنی کہانی، رات گھنیری ہونے تک

Saturday, 7 August 2021

وقت آخر لے گیا وہ شوخیاں وہ بانکپن

 وقت آخر لے گیا وہ شوخیاں وہ بانکپن

پھول سے چہرے تھے کتنے اور تھے نازک بدن

لوگ رکھتے ہیں دلوں میں آتشِ بغض و حسد

اور پھر کرتے ہیں شکوہ جل رہا ہے تن بدن

چل پڑے جب جانبِ منزل تو پھر اے ہمسفر

کیا سفر کی مشکلیں، کیا دوریاں، کیسی تھکن