زخم سینے کا پھر ابھر آیا
یاد بھر کوئی چارہ گر آیا
مجھ کو بخشی خدا نے اک بیٹی
چاند آنگن میں اک اتر آیا
خوش نصیبوں کو گھر ملا یارو
میرے حصے میں پھر سفر آیا
زخم سینے کا پھر ابھر آیا
یاد بھر کوئی چارہ گر آیا
مجھ کو بخشی خدا نے اک بیٹی
چاند آنگن میں اک اتر آیا
خوش نصیبوں کو گھر ملا یارو
میرے حصے میں پھر سفر آیا
زبانیں چپ رہیں لیکن مزاجِ یار بولے گا
کہ تُو با ظرف ہے کتنا تِرا کردار بولے گا
نئی نسلوں کو کس نے کیا دیا ہے دیکھیے لیکن
مِرے اشعار میں تہذیب کا معیار بولے گا
وہ جس نے کھائے ہیں دھوکے محبت کر کے اپنوں سے
وہی تو خون کو پانی گُلوں کو خار بولے گا
شام کے ڈھلتے سورج نے یہ بات مجھے سمجھائی ہے
تاریکی میں دیکھ سکوں تو آنکھوں میں بینائی ہے
احساسات کی تہہ تک جانا کتنا مشکل ہوتا ہے
ذہن و دل میں جتنا اترو، اتنی ہی گہرائی ہے
رشتے ناطے باہر سے تو جسم کو گھیرے بیٹھے ہیں
روح کے اندر جھانک کے دیکھو میلوں تک تنہائی ہے
بکھری تھی ہر سمت جوانی رات گھنیری ہونے تک
لیکن میں نے دل کی نہ مانی رات گھنیری ہونے تک
درد کا دریا بڑھتے بڑھتے سینے تک آ پہنچا ہے
اور چڑھے گا تھوڑا پانی رات گھنیری ہونے تک
آگ پہ چلنا قسمت میں ہے، برف پہ رُکنا مجبوری
کون سُنے گا اپنی کہانی، رات گھنیری ہونے تک
وقت آخر لے گیا وہ شوخیاں وہ بانکپن
پھول سے چہرے تھے کتنے اور تھے نازک بدن
لوگ رکھتے ہیں دلوں میں آتشِ بغض و حسد
اور پھر کرتے ہیں شکوہ جل رہا ہے تن بدن
چل پڑے جب جانبِ منزل تو پھر اے ہمسفر
کیا سفر کی مشکلیں، کیا دوریاں، کیسی تھکن