کوئی میرا ہوا ہوا نہ ہوا
اس کا مجھ کو کبھی گلہ نہ ہوا
سب کی کرتا رہا بھلائی میں
پھر بھی میرا کبھی بھلا نہ ہوا
ہو گئے مجھ سے وہ جدا پھر بھی
درد دل سے مگر جدا نہ ہوا
زہر پیتا رہا بنامِ شراب
توبہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوا
لوگ مرتے رہے محبت میں
ختم پھر بھی یہ سلسلہ نہ ہوا
لاکھ چاہا مِرے رقیبوں نے
پھر بھی ان سے مِرا بُرا نہ ہوا
ان کے وعدے پہ جی رہا ہوں مینک
جن سے وعدہ کوئی وفا نہ ہوا
مینک اکبرآبادی
کے کے سنگھ
No comments:
Post a Comment