Tuesday, 15 September 2026

کوئی میرا ہوا ہوا نہ ہوا

 کوئی میرا ہوا ہوا نہ ہوا

اس کا مجھ کو کبھی گلہ نہ ہوا

سب کی کرتا رہا بھلائی میں

پھر بھی میرا کبھی بھلا نہ ہوا

ہو گئے مجھ سے وہ جدا پھر بھی

درد دل سے مگر جدا نہ ہوا

زہر پیتا رہا بنامِ شراب

توبہ کرنے کا حوصلہ نہ ہوا

لوگ مرتے رہے محبت میں

ختم پھر بھی یہ سلسلہ نہ ہوا

لاکھ چاہا مِرے رقیبوں نے

پھر بھی ان سے مِرا بُرا نہ ہوا

ان کے وعدے پہ جی رہا ہوں مینک

جن سے وعدہ کوئی وفا نہ ہوا


مینک اکبرآبادی

کے کے سنگھ

No comments:

Post a Comment