ہر کسی کی ہستی کا ناخدا تو ہوتا ہے
یہ بھنور ہی ایسا ہے ڈوبنا تو ہوتا ہے
صاف صاف لہجے میں بات کرنی پڑتی ہے
فاصلے تو بڑھتے ہیں، فیصلہ تو ہوتا ہے
بارِشوں کے موسم میں رتجگے تو ہوتے ہیں
موسمی تبدل ہے عارضہ تو ہوتا ہے
ساتھ ساتھ چلنے میں مُشکلیں تو ہوتی ہیں
ساتھ ساتھ چلنے میں واہمہ تو ہوتا ہے
عشق کے مراحل سے دشت کی منازل تک
جس قدر بھی مشکل ہو راستہ تو ہوتا ہے
تم سے پھول اچھے ہیں ان کا مسکرانا بھی
لاکھ رائیگاں سمجھو بے وجہ تو ہوتا ہے
ہمزُبان لوگوں میں بے زُباں کا دُکھ سمجھو
کُچھ بتا نہیں پاتے، سب سُنا تو ہوتا ہے
زندگی سفر میں ہے راستے بدلتی ہے
راستے بدلنے سے حادثہ تو ہوتا ہے
نعیم اللہ انمول
No comments:
Post a Comment