Tuesday, 8 September 2026

انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

 انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا

غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو

زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا

دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا

میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا

ابھی تو صرف تصور ہے ہمسفر میرا

میں لوٹ آیا تو دنیا کا حال دیکھوں گا

ابھی تو سود و زیاں میں کوئی تمیز نہیں

میں لُٹ گیا تو یقیناً مآل دیکھوں گا

مرا یہ زعم بھی اک روز ٹُوٹ جائے گا

نظام! میں بھی شکست خیال دیکھوں گا


نظام الدین نظام

No comments:

Post a Comment