انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا
لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا
غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو
زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا
دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا
میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا
ابھی تو صرف تصور ہے ہمسفر میرا
میں لوٹ آیا تو دنیا کا حال دیکھوں گا
ابھی تو سود و زیاں میں کوئی تمیز نہیں
میں لُٹ گیا تو یقیناً مآل دیکھوں گا
مرا یہ زعم بھی اک روز ٹُوٹ جائے گا
نظام! میں بھی شکست خیال دیکھوں گا
نظام الدین نظام
No comments:
Post a Comment