محبت کا یہ شیوہ ہے سرِ تسلیم خم کرنا
جسے دل میں بسانا ہو اسی کا ذکر کم کرنا
فراقِ یار میں رونا،۔ فغانِ دم بہ دم کرنا
رخِ جاناں کے ہر پرتو پہ میرا سر کو خم کرنا
عجب لگتا ہے اہلِ دید کو طرزِ عمل میرا
اک اس کی دید کی خاطر یہ آنکھیں جامِ جم کرنا
محبت کا یہ شیوہ ہے سرِ تسلیم خم کرنا
جسے دل میں بسانا ہو اسی کا ذکر کم کرنا
فراقِ یار میں رونا،۔ فغانِ دم بہ دم کرنا
رخِ جاناں کے ہر پرتو پہ میرا سر کو خم کرنا
عجب لگتا ہے اہلِ دید کو طرزِ عمل میرا
اک اس کی دید کی خاطر یہ آنکھیں جامِ جم کرنا
چشمِ ساقی مے و سبو دیکھا
حسنِ لاریب چارسو دیکھا
جب تمنا نہیں رہی کوئی
پھر اسے اپنے رو بہ رو دیکھا
اس کا شیدا تو تھا ہی شہرمگر
آئینہ محوِ آرزو دیکھا
رسمِ الفت ادا کرے گا کون؟
با وفا سے وفا کرے گا کون؟
دردِ دل حد سے بڑھ گیا اب کے
دردِ دل کی دوا کرے گا کون؟
جس میں شامل نہ ہو ریا کاری
ایسا سجدہ ادا کرے گا کون؟
دل میں رہتی ہے آرزُو تیری
آنکھ کرتی ہے جستجُو تیری
ہم نے خاموش رہ کے محفل میں
آج پھر رکھ لی آبرُو تیری
بُوٹا بُوٹا بھی ذکر ہے تیرا
غُنچہ غُنچہ ہے گُفتگو تیری