Showing posts with label جمیل حیات. Show all posts
Showing posts with label جمیل حیات. Show all posts

Friday, 19 June 2026

محبت کا یہ شیوہ ہے سر تسلیم خم کرنا

 محبت کا یہ شیوہ ہے سرِ تسلیم خم کرنا 

جسے دل میں بسانا ہو اسی کا ذکر کم کرنا

فراقِ یار میں رونا،۔ فغانِ دم بہ دم کرنا

رخِ جاناں کے ہر پرتو پہ میرا سر کو خم کرنا

عجب لگتا ہے اہلِ دید کو طرزِ عمل میرا

اک اس کی دید کی خاطر یہ آنکھیں جامِ جم کرنا

Tuesday, 11 November 2025

چشم ساقی مے و سبو دیکھا

 چشمِ ساقی مے و سبو دیکھا

حسنِ لاریب چارسو دیکھا 

جب تمنا نہیں رہی کوئی

پھر اسے اپنے رو بہ رو دیکھا

اس کا شیدا تو تھا ہی شہرمگر

آئینہ محوِ آرزو دیکھا

Thursday, 15 July 2021

رسم الفت ادا کرے گا کون

رسمِ الفت ادا کرے گا کون؟

با وفا سے وفا کرے گا کون؟

دردِ دل حد سے بڑھ گیا اب کے

دردِ دل کی دوا کرے گا کون؟ 

جس میں شامل نہ ہو ریا کاری

ایسا سجدہ ادا کرے گا کون؟ 

Saturday, 6 March 2021

دل میں رہتی ہے آرزو تیری

دل میں رہتی ہے آرزُو تیری

آنکھ کرتی ہے جستجُو تیری

ہم نے خاموش رہ کے محفل میں

آج پھر رکھ لی آبرُو تیری

بُوٹا بُوٹا بھی ذکر ہے تیرا

غُنچہ غُنچہ ہے گُفتگو تیری