Saturday, 24 October 2026

ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے

 ہمِیں سرحدوں میں ہیں اُلجھے ہوئے، پر

ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے

وہ باغِ اِرم کی مہک ساتھ لے کر

مدینے کی گلیوں میں پھیلے کی جس دم

یقیناً مِری حسرتیں، آرزوئیں

گِرہ باندھ کر بھیجتی ہوں جو اکثر

ہواؤں کے ہاتھوں، فضاؤں کے ہاتھوں

مُقدّس زمیں سے لِپٹتی رہیں گی

وہ پاک و منزّہ گلی اور کُوچے

جہاں فخرِ عالمؐ کے نقشِ قدم سے

ازل کے خزینے عیاں ہو چکے ہیں

میری آرزوئیں وہاں تک پہنچ کر

کئی عاجزانہ دُعائیں جو کر لیں

یقیناً مجھے اِذنِ ربّی مِلے گا

یقیناً کبھی دیکھ لوں گی وہ جالی

جہاں وقت کے بادشاہ و سکندر

گداگر بنے بیٹھتے ہیں جو شب بھر

تو صبح و تلک مالکِ دو جہاں کے

خزانوں سے پاتے ہیں لعل و گُہر

انؐ کے فضل و کرم سے


شبینہ آرا

No comments:

Post a Comment