یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے
ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے
کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے
کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے
یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو
ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے
یہ کیسا درد ہے بڑھتا ہُوا مِرے اندر
جو میرا چین، مِرا ہر وصال نوچتا ہے
سحر نصیب میں شاید یہی ملال لِکھا
کہ خود کو چاہوں تو اپنا خیال نوچتا ہے
رخسانہ سحر
No comments:
Post a Comment