درد کے گیت سنا کر لے جائے
جب وہ چاہے منا کر لے جائے
آئے تو انجمن آرائی ہو
جائے تو بزم اٹھا کر لے جائے
اپنی ہستی تو ہے تنکے کی طرح
جانے کب موج بہا کر لے جائے
درد کے گیت سنا کر لے جائے
جب وہ چاہے منا کر لے جائے
آئے تو انجمن آرائی ہو
جائے تو بزم اٹھا کر لے جائے
اپنی ہستی تو ہے تنکے کی طرح
جانے کب موج بہا کر لے جائے
دل میں کچھ درد سوا ہے یارو
آج رونا بھی روا ہے یارو
سانس لیتا ہوں تو دم گُھٹتا ہے
کیسی بے درد ہوا ہے یارو
میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں
تم کو کیا آج ہوا ہے یارو
رہ گزاروں میں روشنی کے لیے
لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دِیے
ذائقہ تلخ ہے محبت کا
آدمی زہرِ غم پیۓ نہ پیۓ
دل میں یادوں کے رتجگے جیسے
ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دِیے