Showing posts with label ایوب رومانی. Show all posts
Showing posts with label ایوب رومانی. Show all posts

Saturday, 9 October 2021

درد کے گیت سنا کر لے جائے

 درد کے گیت سنا کر لے جائے

جب وہ چاہے منا کر لے جائے

آئے تو انجمن آرائی ہو

جائے تو بزم اٹھا کر لے جائے

اپنی ہستی تو ہے تنکے کی طرح

جانے کب موج بہا کر لے جائے

Thursday, 7 October 2021

دل میں کچھ درد سوا ہے یارو

 دل میں کچھ درد سوا ہے یارو

آج رونا بھی روا ہے یارو

سانس لیتا ہوں تو دم گُھٹتا ہے

کیسی بے درد ہوا ہے یارو

میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں

تم کو کیا آج ہوا ہے یارو

Wednesday, 6 October 2021

رہگزاروں میں روشنی کے لیے

 رہ گزاروں میں روشنی کے لیے

لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دِیے

ذائقہ تلخ ہے محبت کا

آدمی زہرِ غم پیۓ نہ پیۓ

دل میں یادوں کے رتجگے جیسے

ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دِیے

Saturday, 31 October 2015

تجھ سے پہلے جو تمنا تھی وہی ہے اب تک

تجھ سے پہلے جو تمنا تھی وہی ہے اب تک
تجھ کو پا کر بھی کسی شے کی کمی ہے اب تک
ہمیں جینا ہے ابھی نِت نئے الزام نہ دو
ہم نے کب بات تمہیں دل کی کہی ہے اب تک
تجھ سے مل کر بھی تِرے ہجر کے صدمے نہ گئے
اس مسرت میں بھی احساسِ غمی ہے اب تک

Tuesday, 10 July 2012

جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا

جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
صحنِ گُل چھوڑ گیا، دل مِرا پاگل نکلا
جب اُسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا 
دل میں موجود رہا، آنکھ سے اوجھل نکلا
اِک ملاقات تھی جو دل کو سدا یاد رہی
ہم جسے عمر سمجھتے تھے، وہ اِک پل نکلا