Showing posts with label عاطف ملک. Show all posts
Showing posts with label عاطف ملک. Show all posts

Thursday, 24 March 2022

تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے

 تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے

ہمارا دل جو تِری یاد کے حصار میں ہے

لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں

وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے

جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی

کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے

Saturday, 29 January 2022

ضبط کہتا ہوں کسی آنکھ کی ویرانی کو

 ضبط کہتا ہوں کسی آنکھ کی ویرانی کو

آہ کہتا ہوں میں پلکوں سے گرے پانی کو

جس کے ہونے سے نہ محسوس ہو نادار کا دکھ

زہر کہتا ہوں میں اس شے کی فراوانی کو

زندگانی میں محبت ہی تو ہر چیز نہیں

کون سا نام دوں ہمدم! تِری نادانی کو

Sunday, 2 January 2022

لبوں پہ اس لیے مدحت ہے کملی والے کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لبوں پہ اس لیے مدحت ہے کملی والےﷺ کی

ہمارے دل میں محبت ہے کملی والے کی

ہے جیسے رب کی حکومت سبھی جہانوں پر

ہر اک جہان پہ رحمت ہے کملی والے کی

بس اک خدا ہے مقامِ حضورؐ سے واقف

ورا بشر سے حقیقت ہے کملی والے کی

Sunday, 26 December 2021

دل مضطر کو چین آنے سے پہلے

 دلِ مضطر کو چین آنے سے پہلے

بہت تڑپا تمہیں پانے سے پہلے

فقط وصلت کی لذت سے تھا واقف

تِری فُرقت کا غم کھانے سے پہلے

لگاؤ دل بھی تو ہے دھیان لازم

حذر بہتر ہے پچھتانے سے پہلے

Saturday, 25 December 2021

جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے

 جس پل سے تِرا عشق ہمیں دان ہوا ہے

پہلے جو کٹھن تھا، وہی آسان ہوا ہے

اُلفت کا بھی کیا خوب ہی احسان ہوا ہے

اب نام تمہارا مِری پہچان ہوا ہے

یہ بُھول گیا فرطِ مسرت میں دھڑکنا

اس دل میں تِرا درد جو مہمان ہوا ہے

Friday, 13 August 2021

آنکھوں میں جو دیا تھا بجھایا نہ جا سکا

 آنکھوں میں جو دِیا تھا بجھایا نہ جا سکا

تیری گلی سے لوٹ کے آیا نہ جا سکا

دل سے تِرا خیال مٹایا نہ جا سکا

جو فرضِ عین تھا وہ نبھایا نہ جا سکا

ان سے بھی ہو سکی نہ نظر التفات کی

ہم سے بھی دل کا حال سنایا نہ جا سکا

Wednesday, 3 March 2021

سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ لگانے کا

 سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ لگانے کا

ہے ان کا موڈ کسی کام میں پھنسانے کا

اسے رقیب نے بھیجا ہے حل شدہ پرچہ

وہ پاس ہو گیا تو ہاتھ پھر نہ آنے کا

کیا ہے عشق تو چپ چاپ کاٹو ہجر کی رات

نہیں ہے فائدہ اب کوئی ٹرٹرانے کا