تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے
ہمارا دل جو تِری یاد کے حصار میں ہے
لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں
وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے
جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی
کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے
تمام دہر ہی جیسے کسی خمار میں ہے
ہمارا دل جو تِری یاد کے حصار میں ہے
لرز اٹھا ہے فلک، تھرتھرا رہی ہے زمیں
وہ سوز و درد بھرا آہِ دل فگار میں ہے
جو ہم سے کی بھی تو ظالم نے بات ایسی کی
کہ سن کے دل کو سکوں ہے نہ جاں قرار میں ہے
ضبط کہتا ہوں کسی آنکھ کی ویرانی کو
آہ کہتا ہوں میں پلکوں سے گرے پانی کو
جس کے ہونے سے نہ محسوس ہو نادار کا دکھ
زہر کہتا ہوں میں اس شے کی فراوانی کو
زندگانی میں محبت ہی تو ہر چیز نہیں
کون سا نام دوں ہمدم! تِری نادانی کو
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لبوں پہ اس لیے مدحت ہے کملی والےﷺ کی
ہمارے دل میں محبت ہے کملی والے کی
ہے جیسے رب کی حکومت سبھی جہانوں پر
ہر اک جہان پہ رحمت ہے کملی والے کی
بس اک خدا ہے مقامِ حضورؐ سے واقف
ورا بشر سے حقیقت ہے کملی والے کی
دلِ مضطر کو چین آنے سے پہلے
بہت تڑپا تمہیں پانے سے پہلے
فقط وصلت کی لذت سے تھا واقف
تِری فُرقت کا غم کھانے سے پہلے
لگاؤ دل بھی تو ہے دھیان لازم
حذر بہتر ہے پچھتانے سے پہلے
جس پل سے تِرا عشق ہمیں دان ہوا ہے
پہلے جو کٹھن تھا، وہی آسان ہوا ہے
اُلفت کا بھی کیا خوب ہی احسان ہوا ہے
اب نام تمہارا مِری پہچان ہوا ہے
یہ بُھول گیا فرطِ مسرت میں دھڑکنا
اس دل میں تِرا درد جو مہمان ہوا ہے
آنکھوں میں جو دِیا تھا بجھایا نہ جا سکا
تیری گلی سے لوٹ کے آیا نہ جا سکا
دل سے تِرا خیال مٹایا نہ جا سکا
جو فرضِ عین تھا وہ نبھایا نہ جا سکا
ان سے بھی ہو سکی نہ نظر التفات کی
ہم سے بھی دل کا حال سنایا نہ جا سکا
سبب کھلا یہ ہمیں ان کے منہ لگانے کا
ہے ان کا موڈ کسی کام میں پھنسانے کا
اسے رقیب نے بھیجا ہے حل شدہ پرچہ
وہ پاس ہو گیا تو ہاتھ پھر نہ آنے کا
کیا ہے عشق تو چپ چاپ کاٹو ہجر کی رات
نہیں ہے فائدہ اب کوئی ٹرٹرانے کا