Sunday, 2 January 2022

لبوں پہ اس لیے مدحت ہے کملی والے کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لبوں پہ اس لیے مدحت ہے کملی والےﷺ کی

ہمارے دل میں محبت ہے کملی والے کی

ہے جیسے رب کی حکومت سبھی جہانوں پر

ہر اک جہان پہ رحمت ہے کملی والے کی

بس اک خدا ہے مقامِ حضورؐ سے واقف

ورا بشر سے حقیقت ہے کملی والے کی

عطا بھی ایسی کہ باقی رہے نہ کوئی طلب

وہ فیض و جود و سخاوت ہے کملی والے کی

گواہی دیتے ہیں بدر و حنین کے میدان

کہ بے مثال شجاعت ہے کملی والے کی

جنہیں خدا نے کیا پاک ہر برائی سے

وہ اہلِ بیتؑ ہیں، عترت ہے کملی والے کی

جو اس جہاں میں بھی کام آئے اور حشر میں بھی

وہ صرف ایک ہی نسبت ہے کملی والے کی

کلامِ پاک بتاتا ہے آخری جس کو

وہ بالیقین نبوتﷺ ہے کملی والے کی

ہٹا دے ان سے مصائب کو اے مِرے مولا

کہ ابتلا میں یہ اُمت ہے کملی والے کی

ہے مدح خواں تو حقیقت میں بس وہی عاطف

شعار جس کا اطاعت ہے کملی والےﷺ کی


عاطف ملک

عین میم

No comments:

Post a Comment