پھر ہوا ذکرِ خُرابات، خدا خیر کرے
آئی پھر جھوم کے برسات خدا خیر کرے
مچلے مچلے ہوئے جذبات خدا خیر کرے
بھیگی بھیگی سی جواں رات خدا خیر کرے
چشم مدہوش کے بے تاب گلابی ڈورے
دعوت مے کے اشارات خدا خیر کرے
پھر ہوا ذکرِ خُرابات، خدا خیر کرے
آئی پھر جھوم کے برسات خدا خیر کرے
مچلے مچلے ہوئے جذبات خدا خیر کرے
بھیگی بھیگی سی جواں رات خدا خیر کرے
چشم مدہوش کے بے تاب گلابی ڈورے
دعوت مے کے اشارات خدا خیر کرے
ہو گیا زخم مِرے دل کا ہرا شام ڈھلے
یاد نے آ کے تِری چھیڑ دیا شام ڈھلے
لمحہ لمحہ مِرے نزدیک چلی آتی ہے
جانے والے تِرے قدموں کی صدا شام ڈھلے
پھر خیالوں میں سمایا تِرا چندن سا بدن
پھر مہک اٹھی ہے ویران فضا شام ڈھلے
مست نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے
آگ سینے میں لگاؤ تو کوئی بات بنے
ایک دو جام سے برسات میں کیا بنتا ہے
آج مے خانہ لٹاؤ تو کوئی بات بنے
نشہ ہے ایک طرف رنگ کہو خاک جمے
خود پیو، اور پلاؤ تو کوئی بات بنے
دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھ میں آنسو جاگے
شام ہوتے ہی تِری یاد کے جگنو جاگے
اور ہو جائے گی باغوں کی فضا عطر افشاں
تو اگر آئے تو صحراؤں میں خوشبو جاگے
کھل اگر جائیں سیہ مست گھنیرے گیسو
سارے ماحول میں بنگال کا جادو جاگے
وقت کا انتخاب ہیں ہم لوگ
بانیٔ انقلاب ہیں ہم لوگ
کوئی ہم سا نہیں زمانے میں
آپ اپنا جواب ہیں ہم لوگ
حسن والو! ہماری قدر کرو
حسن کی آب و تاب ہیں ہم لوگ
اٹھاؤ جام اٹھاؤ کہ رات باقی ہے
اڑاؤ کاگ اڑاؤ کی رات باقی ہے
ملیں ملیں نہ ملیں پھر یہ فرصتیں ساقی
پلاؤ اور پلاؤ کہ رات باقی ہے
ابھی تو آئی ہے بازی جنوں کے ہاتھوں میں
ابھی نہ ہوش میں آؤ کہ رات باقی ہے