Showing posts with label طالب شملوی. Show all posts
Showing posts with label طالب شملوی. Show all posts

Wednesday, 19 July 2023

پھر ہوا ذکر خرابات خدا خیر کرے

 پھر ہوا ذکرِ خُرابات، خدا خیر کرے

آئی پھر جھوم کے برسات خدا خیر کرے

مچلے مچلے ہوئے جذبات خدا خیر کرے

بھیگی بھیگی سی جواں رات خدا خیر کرے

چشم مدہوش کے بے تاب گلابی ڈورے

دعوت مے کے اشارات خدا خیر کرے

Tuesday, 16 May 2023

ہو گیا زخم مرے دل کا ہرا شام ڈھلے

 ہو گیا زخم مِرے دل کا ہرا شام ڈھلے

یاد نے آ کے تِری چھیڑ دیا شام ڈھلے

لمحہ لمحہ مِرے نزدیک چلی آتی ہے

جانے والے تِرے قدموں کی صدا شام ڈھلے

پھر خیالوں میں سمایا تِرا چندن سا بدن

پھر مہک اٹھی ہے ویران فضا شام ڈھلے

Wednesday, 3 May 2023

مست نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے

 مست نظروں سے پلاؤ تو کوئی بات بنے

آگ سینے میں لگاؤ تو کوئی بات بنے

ایک دو جام سے برسات میں کیا بنتا ہے

آج مے خانہ لٹاؤ تو کوئی بات بنے

نشہ ہے ایک طرف رنگ کہو خاک جمے

خود پیو، اور پلاؤ تو کوئی بات بنے

Monday, 1 May 2023

دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھ میں آنسو جاگے

 دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھ میں آنسو جاگے

شام ہوتے ہی تِری یاد کے جگنو جاگے

اور ہو جائے گی باغوں کی فضا عطر افشاں

تو اگر آئے تو صحراؤں میں خوشبو جاگے

کھل اگر جائیں سیہ مست گھنیرے گیسو

سارے ماحول میں بنگال کا جادو جاگے

Tuesday, 25 January 2022

وقت کا انتخاب ہیں ہم لوگ

 وقت کا انتخاب ہیں ہم لوگ

بانیٔ انقلاب ہیں ہم لوگ

کوئی ہم سا نہیں زمانے میں

آپ اپنا جواب ہیں ہم لوگ

حسن والو! ہماری قدر کرو

حسن کی آب و تاب ہیں ہم لوگ

Monday, 2 August 2021

اٹھاؤ جام اٹھاؤ کہ رات باقی ہے

اٹھاؤ جام اٹھاؤ کہ رات باقی ہے

اڑاؤ کاگ اڑاؤ کی رات باقی ہے

ملیں ملیں نہ ملیں پھر یہ فرصتیں ساقی

پلاؤ اور پلاؤ کہ رات باقی ہے

ابھی تو آئی ہے بازی جنوں کے ہاتھوں میں

ابھی نہ ہوش میں آؤ کہ رات باقی ہے