اٹھاؤ جام اٹھاؤ کہ رات باقی ہے
اڑاؤ کاگ اڑاؤ کی رات باقی ہے
ملیں ملیں نہ ملیں پھر یہ فرصتیں ساقی
پلاؤ اور پلاؤ کہ رات باقی ہے
ابھی تو آئی ہے بازی جنوں کے ہاتھوں میں
ابھی نہ ہوش میں آؤ کہ رات باقی ہے
ابھی نصیب نے آنکھیں ذرا سی کھولی ہیں
نصیب اور جگاؤ کہ رات باقی ہے
ابھی تو کہنے دو افسانہ الجھی سانسوں کو
ابھی زباں نہ ہلاؤ کہ رات باقی ہے
ابھی کلی ہی کھلی ہے کلی کلی نہ رہے
کلی کو پھول بناؤ کہ رات باقی ہے
سحر تو دور ہے طالب ابھی سے کیوں چپ ہو
غزل اک اور سناؤ کہ رات باقی ہے
طالب شملوی
No comments:
Post a Comment