Monday, 2 August 2021

اٹھاؤ جام اٹھاؤ کہ رات باقی ہے

اٹھاؤ جام اٹھاؤ کہ رات باقی ہے

اڑاؤ کاگ اڑاؤ کی رات باقی ہے

ملیں ملیں نہ ملیں پھر یہ فرصتیں ساقی

پلاؤ اور پلاؤ کہ رات باقی ہے

ابھی تو آئی ہے بازی جنوں کے ہاتھوں میں

ابھی نہ ہوش میں آؤ کہ رات باقی ہے

ابھی نصیب نے آنکھیں ذرا سی کھولی ہیں

نصیب اور جگاؤ کہ رات باقی ہے

ابھی تو کہنے دو افسانہ الجھی سانسوں کو

ابھی زباں نہ ہلاؤ کہ رات باقی ہے

ابھی کلی ہی کھلی ہے کلی کلی نہ رہے

کلی کو پھول بناؤ کہ رات باقی ہے

سحر تو دور ہے طالب ابھی سے کیوں چپ ہو

غزل اک اور سناؤ کہ رات باقی ہے


طالب شملوی

No comments:

Post a Comment