Monday, 2 August 2021

بند ہونے لگے ہیں رستے کیوں

 بند ہونے لگے ہیں رستے کیوں

کوئی بتلائے، کون، کیسے، کیوں؟

باپ بیٹی کو کیسے بتلائے؟

لوٹ جاتے ہیں آ کے رشتے کیوں؟

اس سے پوچھو کہ جا رہی ہے کہاں؟

پٹریوں پر لٹا کے بچے کیوں؟

ایک تنکے نے یہ سوال کیا

چھوڑ جاتے ہیں پیڑ، پتے کیوں؟

قرض اترے، ضرور اترے، مگر

یہ میری کھال ہی سے اترے کیوں؟

باپ جاہل تھا، ہل چلاتا تھا

علم لاتا ہے ساتھ نخرے کیوں؟

سارا گودام کر دیا خالی

دندناتے ہیں اب بھی چوہے کیوں

دور سے آ کے میرے در پہ چڑیل

کان میں سنتری کے پھونکے کیوں؟

شیر کی کھال میں چھپا گیدڑ

لومڑی کی زبان کھینچے کیوں

چِت بھی اس کی ہے، پٹ بھی اس کا ہے

ایسے میں عقل مند کھیلے کیوں


خلیل الرحمٰن چشتی

No comments:

Post a Comment