کل ایک شعر میں، میں نے یوں استعارا کیا
تمہاری آنکھوں کو اک جھیل کا نظارہ کیا
وہ کیا ہے پہلے مِرا دل نہیں لگا اس سے
سو میں نے اس سے وہی عشق پھر دوبارہ کیا
امیر لوگ نمائش بنا رہے تھے جسے
کسی نے سانسوں کو بیچا تو پھر غبارہ کیا
کل ایک شعر میں، میں نے یوں استعارا کیا
تمہاری آنکھوں کو اک جھیل کا نظارہ کیا
وہ کیا ہے پہلے مِرا دل نہیں لگا اس سے
سو میں نے اس سے وہی عشق پھر دوبارہ کیا
امیر لوگ نمائش بنا رہے تھے جسے
کسی نے سانسوں کو بیچا تو پھر غبارہ کیا
میرا بس چلے
تو سمندروں کی لہروں سے دل بنا کر
ان کے اندر تمہارا نام کندہ کر دوں
میرا بس چلے تو
پھولوں سے تمہارا نام لکھ کر
کسی سنسان قبرستان میں لٹکا دوں
تِرے نہ رہنے سے اک تو نہیں رہے گا نا
یہ کاروبارِ جہاں تو یہیں رہے گا نا
فراقِ روح و بدن سے فنا نہیں لازم
الگ الگ بھی یہ جوڑا کہیں رہے گا نا
بسا کے دل میں تِرا پیار مطمئن ہوں میں
مکاں رہے نہ رہے پر مکیں رہے گا نا
موجودگی
تمہاری موجودگی
گرمیوں کی سخت دھوپ میں
الیکٹریسٹی کے بغیر رہنے والے
کسی غریب کے گھر کے وسط میں لگے
گھنے درخت کے سائے کے جیسی ہے
جب کسی غم میں رو نہ پائیں گے
ہم فقط قہقہے لگائیں گے
خود سے جھگڑا تو پہلے ختم کریں
آپ کو بھی کبھی منائیں گے
عمر بھر ایک بات یاد رہی
آپ کو جلد بھول جائیں گے
اب تِرے میرے بیچ میں ایسا بنا رہے
تُو چھوڑ دے مگر کوئی رشتہ بنا رہے
کتنے غریب لوگ یہاں قتل ہو گئے
بس اس پہ کہ امیر کا رستہ بنا رہے
وہ شخص مجھ کو چھوڑ گیا دل سے کٹ گیا
پھر بھی وہ چاہتا ہے؛ تماشہ بنا رہے
سنو مہ جبیں، پری وش
تمہارا سنہری دھوپ جیسا
اُجلا چہرہ
نظاروں کے دل میں شمار ہوتا ہے
تمہاری آنکھیں
چلتے پھرتے اور چمکتے دمکتے