Showing posts with label شاہد ریاض. Show all posts
Showing posts with label شاہد ریاض. Show all posts

Wednesday, 2 August 2023

کل ایک شعر میں میں نے یوں استعارا کیا

 کل ایک شعر میں، میں نے یوں استعارا کیا

تمہاری آنکھوں کو اک جھیل کا نظارہ کیا

وہ کیا ہے پہلے مِرا دل نہیں لگا اس سے

سو میں نے اس سے وہی عشق پھر دوبارہ کیا

امیر لوگ نمائش بنا رہے تھے جسے

کسی نے سانسوں کو بیچا تو پھر غبارہ کیا

Monday, 27 June 2022

میرا بس چلے تو تو سمندروں کی لہروں سے

 میرا بس چلے

تو سمندروں کی لہروں سے دل بنا کر 

ان کے اندر تمہارا نام کندہ کر دوں

میرا بس چلے تو

پھولوں سے تمہارا نام لکھ کر 

کسی سنسان قبرستان میں لٹکا دوں 

Tuesday, 3 August 2021

ترے نہ رہنے سے اک تو نہیں رہے گا نا

 تِرے نہ رہنے سے اک تو نہیں رہے گا نا

یہ کاروبارِ جہاں تو یہیں رہے گا نا

فراقِ روح و بدن سے فنا نہیں لازم

الگ الگ بھی یہ جوڑا کہیں رہے گا نا

بسا کے دل میں تِرا پیار مطمئن ہوں میں

مکاں رہے نہ رہے پر مکیں رہے گا نا

Monday, 2 August 2021

تمہاری موجودگی گھنے درخت کے سائے کے جیسی ہے

 موجودگی


تمہاری موجودگی

گرمیوں کی سخت دھوپ میں 

الیکٹریسٹی کے بغیر رہنے والے  

کسی غریب کے گھر کے وسط میں لگے 

گھنے درخت کے سائے کے جیسی ہے

Friday, 2 July 2021

جب کسی غم میں رو نہ پائیں گے

 جب کسی غم میں رو نہ پائیں گے

ہم فقط قہقہے لگائیں گے

خود سے جھگڑا تو پہلے ختم کریں

آپ کو بھی کبھی منائیں گے

عمر بھر ایک بات یاد رہی

آپ کو جلد بھول جائیں گے

Thursday, 1 July 2021

اب ترے میرے بیچ میں ایسا بنا رہے

 اب تِرے میرے بیچ میں ایسا بنا رہے

تُو چھوڑ دے مگر کوئی رشتہ بنا رہے

کتنے غریب لوگ یہاں قتل ہو گئے

بس اس پہ کہ امیر کا رستہ بنا رہے

وہ شخص مجھ کو چھوڑ گیا دل سے کٹ گیا

پھر بھی وہ چاہتا ہے؛ تماشہ بنا رہے

Wednesday, 30 June 2021

سنو مہ جبیں پری وش تمہارا سنہری دھوپ جیسا اجلا چہرہ

 سنو مہ جبیں، پری وش


تمہارا سنہری دھوپ جیسا

اُجلا چہرہ

نظاروں کے دل میں شمار ہوتا ہے

تمہاری آنکھیں

چلتے پھرتے اور چمکتے دمکتے