یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی
اب وہ دشمن ہے تو پھر اس سے مروت کیسی
سوچتے سوچتے یہ عمر گزر جائے گی
آنے والی ہے خدا جانے مصیبت کیسی
جب چراغوں کی حفاظت نہیں ہوتی تم سے
پھر اندھیرا ہے گھروں میں تو شکایت کیسی
یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی
اب وہ دشمن ہے تو پھر اس سے مروت کیسی
سوچتے سوچتے یہ عمر گزر جائے گی
آنے والی ہے خدا جانے مصیبت کیسی
جب چراغوں کی حفاظت نہیں ہوتی تم سے
پھر اندھیرا ہے گھروں میں تو شکایت کیسی
نظر اُداس ہے دل موجِ اِضطراب میں ہے
تِرے بغیر مِری زندگی عذاب میں ہے
جو اس کے دیدۂ بدمست میں ہے اے ساقی
کہاں وہ نشہ و مستی تِری شراب میں ہے
تڑپ رہی ہے نظر جس کو دیکھنے کے لیے
وہ اپنا چہرہ چھپائے ہوئے نقاب میں ہے
بے قراری ہو مگر پھر بھی قرار آ جائے
وہ پلٹ کر بھی جو دیکھے تو بہار آ جائے
گُفتگو ایسی کرو دل کو قرار آ جائے
جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آ جائے
کیوں نظر آئے بھلا عکس محبت اس میں
دل کے شیشے پہ اگر گرد و غُبار آ جائے
تنہائی کا بوجھ اُٹھاؤں کب تک آخر آخر کب تک
یاد میں ان کی اشک بہاؤں کب تک آخر آخر کب تک
کوئی نہیں ہے دنیا میں جو میرے دل کی بات کو سمجھے
غیروں کو افسانہ سُناؤں، کب تک آخر آخر کب تک
رات کی کھیتی کو سُورج کی تیز شعاعیں کھا جاتی ہیں
خوابوں کی میں فصل اُگاؤں کب تک آخر آخر کب تک