Showing posts with label عقیل شاطر. Show all posts
Showing posts with label عقیل شاطر. Show all posts

Wednesday, 21 February 2024

یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی

 یہ نہ سوچو کہ تھی آپس میں محبت کیسی

اب وہ دشمن ہے تو پھر اس سے مروت کیسی

سوچتے سوچتے یہ عمر گزر جائے گی

آنے والی ہے خدا جانے مصیبت کیسی

جب چراغوں کی حفاظت نہیں ہوتی تم سے

پھر اندھیرا ہے گھروں میں تو شکایت کیسی

Friday, 12 January 2024

نظر اداس ہے دل موج اضطراب میں ہے

 نظر اُداس ہے دل موجِ اِضطراب میں ہے

تِرے بغیر مِری زندگی عذاب میں ہے

جو اس کے دیدۂ بدمست میں ہے اے ساقی

کہاں وہ نشہ و مستی تِری شراب میں ہے

تڑپ رہی ہے نظر جس کو دیکھنے کے لیے

وہ اپنا چہرہ چھپائے ہوئے نقاب میں ہے

Friday, 3 September 2021

بے قراری ہو مگر پھر بھی قرار آ جائے

بے قراری ہو مگر پھر بھی قرار آ جائے

وہ پلٹ کر بھی جو دیکھے تو بہار آ جائے

گُفتگو ایسی کرو دل کو قرار آ جائے

جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آ جائے

کیوں نظر آئے بھلا عکس محبت اس میں

دل کے شیشے پہ اگر گرد و غُبار آ جائے

Friday, 2 April 2021

تنہائی کا بوجھ اٹھاؤں کب تک آخر آخر کب تک

تنہائی کا بوجھ اُٹھاؤں کب تک آخر آخر کب تک

یاد میں ان کی اشک بہاؤں کب تک آخر آخر کب تک

کوئی نہیں ہے دنیا میں جو میرے دل کی بات کو سمجھے

غیروں کو افسانہ سُناؤں، کب تک آخر آخر کب تک

رات کی کھیتی کو سُورج کی تیز شعاعیں کھا جاتی ہیں

خوابوں کی میں فصل اُگاؤں کب تک آخر آخر کب تک