فیصلہ ہی غلط کیا میں نے
خود تِرا ہجر چن لیا میں نے
کوئی شکوہ گِلہ کیا میں نے
جو دیا تُو نے رکھ لیا میں نے
جب بھی یاد آئے درد کے پنچھی
اک پرندہ 🕊 رہا کیا میں نے
فیصلہ ہی غلط کیا میں نے
خود تِرا ہجر چن لیا میں نے
کوئی شکوہ گِلہ کیا میں نے
جو دیا تُو نے رکھ لیا میں نے
جب بھی یاد آئے درد کے پنچھی
اک پرندہ 🕊 رہا کیا میں نے
درونِ جسم اک طوفاں اٹھا تھا
جو دیکھا دور تک ملبہ پڑا تھا
مسلسل دھول سے جیسے اٹا تھا
ہمیں تو آسماں صحرا لگا تھا
نہ اس شب چاند ابھرا اور نہ تارے
ہمارا ہجر تو تنہا کٹا تھا
آسیب بس گیا کوئی آ کر مکان میں
اک نام لیتا رہتا ہے ہر وقت کان میں
مجھ کو شگاف کرنا پڑا آسمان میں
کوئی خلا جب ہونے لگا درمیان میں
دیوار میں دراڑ تو آنی تھی ایک دن
سر کب تلک پٹختی خموشی مکان میں
ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے
روشنی میں بھی اندھیروں کا سفر جاری ہے
طاقتِ کفر نے کُہرام مچا رکھا ہے
جانے کس کس کو مٹانے کی یہ تیاری ہے
مل کے سب قہر بپا کرتے ہیں انسانوں پر
ہے جنوں ذہن میں اور آنکھ میں چنگاری ہے
ہم سفر تھا ہی نہیں رختِ سفر تھا ہی نہیں
کچھ گنوانے کا مجھے خوف و خطر تھا ہی نہیں
مجھ کو ہر شام جہاں لے کے توقع آئی
در و دیوار تو موجود تھے گھر تھا ہی نہیں
انگلیاں زخمی ہوئیں تب مجھے احساس ہوا
دستکیں دی تھیں جہاں پر وہاں در تھا ہی نہیں
کیا کہنا تھا بھول گئی میں آنکھوں کی اس جل تھل میں
اب کے ملنے جاؤں گی میں گِرہ لگا کر آنچل میں
جب تک اس کا شہر دکھا دیکھا ریل کی کھڑکی سے
بعد حزیں پھر بیٹھ کے میں نے یاد نچوڑیں آنچل میں
دور تلک ہے دھواں دھواں سا دشا دکھے نہ کوئی ڈگر
جیسے آگ سلگتی کوئی چھوڑ گیا ہو جنگل میں
یہ وحشت یونہی بے معنی نہیں ہے
کہ ساتھ اس کی نگہبانی نہیں ہے
اسے چاہا تھا جس شدت سے تُو نے
وہ بچھڑا ہے تو حیرانی نہیں ہے
سمندر ہے میری پلکوں کے نیچے
وہ کہتا ہے یہاں پانی نہیں ہے