Showing posts with label تارا اقبال. Show all posts
Showing posts with label تارا اقبال. Show all posts

Saturday, 11 December 2021

فیصلہ ہی غلط کیا میں نے

 فیصلہ ہی غلط کیا میں نے

خود تِرا ہجر چن لیا میں نے

کوئی شکوہ گِلہ کیا میں نے

جو دیا تُو نے رکھ لیا میں نے

جب بھی یاد آئے درد کے پنچھی

اک پرندہ 🕊 رہا کیا میں نے

Thursday, 9 December 2021

درون جسم اک طوفاں اٹھا تھا

 درونِ جسم اک طوفاں اٹھا تھا

جو دیکھا دور تک ملبہ پڑا تھا

مسلسل دھول سے جیسے اٹا تھا

ہمیں تو آسماں صحرا لگا تھا

نہ اس شب چاند ابھرا اور نہ تارے

ہمارا ہجر تو تنہا کٹا تھا

Wednesday, 8 December 2021

آسیب بس گیا کوئی آ کر مکان میں

 آسیب بس گیا کوئی آ کر مکان میں

اک نام لیتا رہتا ہے ہر وقت کان میں

مجھ کو شگاف کرنا پڑا آسمان میں

کوئی خلا جب ہونے لگا درمیان میں

دیوار میں دراڑ تو آنی تھی ایک دن

سر کب تلک پٹختی خموشی مکان میں

Friday, 17 September 2021

ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے

 ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہے

روشنی میں بھی اندھیروں کا سفر جاری ہے

طاقتِ کفر نے کُہرام مچا رکھا ہے

جانے کس کس کو مٹانے کی یہ تیاری ہے

مل کے سب قہر بپا کرتے ہیں انسانوں پر

ہے جنوں ذہن میں اور آنکھ میں چنگاری ہے

Saturday, 4 September 2021

ہمسفر تھا ہی نہیں رخت سفر تھا ہی نہیں

 ہم سفر تھا ہی نہیں رختِ سفر تھا ہی نہیں

کچھ گنوانے کا مجھے خوف و خطر تھا ہی نہیں

مجھ کو ہر شام جہاں لے کے توقع آئی

در و دیوار تو موجود تھے گھر تھا ہی نہیں

انگلیاں زخمی ہوئیں تب مجھے احساس ہوا

دستکیں دی تھیں جہاں پر وہاں در تھا ہی نہیں

کیا کہنا تھا بھول گئی میں آنکھوں کی اس جل تھل میں

کیا کہنا تھا بھول گئی میں آنکھوں کی اس جل تھل میں

اب کے ملنے جاؤں گی میں گِرہ لگا کر آنچل میں

جب تک اس کا شہر دکھا دیکھا ریل کی کھڑکی سے

بعد حزیں پھر بیٹھ کے میں نے یاد نچوڑیں آنچل میں

دور تلک ہے دھواں دھواں سا دشا دکھے نہ کوئی ڈگر

جیسے آگ سلگتی کوئی چھوڑ گیا ہو جنگل میں

Saturday, 17 April 2021

یہ وحشت یونہی بے معنی نہیں ہے

 یہ وحشت یونہی بے معنی نہیں ہے

کہ ساتھ اس کی نگہبانی نہیں ہے

اسے چاہا تھا جس شدت سے تُو نے

وہ بچھڑا ہے تو حیرانی نہیں ہے

سمندر ہے میری پلکوں کے نیچے

وہ کہتا ہے یہاں پانی نہیں ہے