Saturday, 11 December 2021

فیصلہ ہی غلط کیا میں نے

 فیصلہ ہی غلط کیا میں نے

خود تِرا ہجر چن لیا میں نے

کوئی شکوہ گِلہ کیا میں نے

جو دیا تُو نے رکھ لیا میں نے

جب بھی یاد آئے درد کے پنچھی

اک پرندہ 🕊 رہا کیا میں نے

کس قدر دیکھ جذب ہوں تجھ میں

تُو نے سوچا تو سن لیا میں نے

پھر ادھیڑوں گی درد کے سوئیٹر

خواب ہی ایسا بُن لیا میں نے

چشمِ بینا پہ ہے اثر تِرا

عکس آنکھوں میں بھر لیا میں نے

اب تسلی سے بات کرتے ہیں

خواہشوں کو سُلا دیا میں نے

اب نہ تیری سنوں گی میں تارا

تیرا اب تک کہا کِیا میں نے


تارا اقبال

No comments:

Post a Comment