Showing posts with label وحید الہ آبادی. Show all posts
Showing posts with label وحید الہ آبادی. Show all posts

Thursday, 6 July 2023

دکھلا رہے ہو لطف بہار و خزاں تمہیں

 دکھلا رہے ہو لطف بہار و خزاں تمہیں

گل ہو تمہیں چمن ہو تمہیں باغباں تمہیں

آنکھوں میں مثل رنگ چمن ہو عیاں تمہیں

دل میں ہو بُوئے گل کی طرح سے زباں تمہیں

کیسا حجاب کہتے ہیں دنیا میں کس کو حسن

در پردہ لے رہے ہو مِرا امتحاں تمہیں

Sunday, 18 June 2023

تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی

 تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی

میں اور ہو گیا، نہ وفا اور ہو گئی

گُل کا کہیں نشاں ہے نہ بُلبل کا ذکر ہے

دو روز میں چمن کی ہوا اور ہو گئی

آمد کی سُن کے کھولی تھی بیمارِ غم نے آنکھ

تم آ گئے، اُمیدِ شفا اور ہو گئی

Wednesday, 14 June 2023

لالۂ خوش رنگ تھا جان چمن کیا ہو گیا

 لالۂ خُوشرنگ تھا جانِ چمن کیا ہو گیا

جلوۂ شمعِ شبستاں چمن کیا ہو گیا

کیا ہوئی وہ نرگسِ شہلا کی چشمِ سُرمہ سا

دیدۂ شوخِ غزالانِ چمن کیا ہو گیا

سُنبلِ سیراب کا کیا ہو گیا وہ پیچ و تاب

گیسوئے مرغولہ مویانِ چمن کیا ہو گیا

Friday, 9 June 2023

کوئی شب اور وہ رشک قمر ہے میہمان اپنا

 کوئی شب اور وہ رشک قمر ہے میہمان اپنا

دکھا لے چار دن کی چاندنی یہ بھی سماں اپنا

پلک کو دے کے جنبش پھر گئی ہم سے جو آنکھ ان کی

ہوا پر اڑ گئی کشتی اٹھا کے بادباں اپنا

نہیں ہوش و خِرد کی برہمی سودائے گیسو میں

اندھیری رات میں یہ لُٹ رہا ہے کارواں اپنا

Tuesday, 6 June 2023

آئیے جلوۂ دیدار کے دکھلانے کو

آئیے جلوۂ دیدار کے دکھلانے کو

پھونک دے برق تجلی مرے کاشانے کو

 نخوت حسن پسند آئی ہے دیوانے کو

سرکشی شمع کی منظور ہے پروانے کو

دیکھیے کون سی جا یار کا ملتا ہے پتہ

کوئی کعبے کو چلا ہے کوئی بت خانے کو