دکھلا رہے ہو لطف بہار و خزاں تمہیں
گل ہو تمہیں چمن ہو تمہیں باغباں تمہیں
آنکھوں میں مثل رنگ چمن ہو عیاں تمہیں
دل میں ہو بُوئے گل کی طرح سے زباں تمہیں
کیسا حجاب کہتے ہیں دنیا میں کس کو حسن
در پردہ لے رہے ہو مِرا امتحاں تمہیں
دکھلا رہے ہو لطف بہار و خزاں تمہیں
گل ہو تمہیں چمن ہو تمہیں باغباں تمہیں
آنکھوں میں مثل رنگ چمن ہو عیاں تمہیں
دل میں ہو بُوئے گل کی طرح سے زباں تمہیں
کیسا حجاب کہتے ہیں دنیا میں کس کو حسن
در پردہ لے رہے ہو مِرا امتحاں تمہیں
تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی
میں اور ہو گیا، نہ وفا اور ہو گئی
گُل کا کہیں نشاں ہے نہ بُلبل کا ذکر ہے
دو روز میں چمن کی ہوا اور ہو گئی
آمد کی سُن کے کھولی تھی بیمارِ غم نے آنکھ
تم آ گئے، اُمیدِ شفا اور ہو گئی
لالۂ خُوشرنگ تھا جانِ چمن کیا ہو گیا
جلوۂ شمعِ شبستاں چمن کیا ہو گیا
کیا ہوئی وہ نرگسِ شہلا کی چشمِ سُرمہ سا
دیدۂ شوخِ غزالانِ چمن کیا ہو گیا
سُنبلِ سیراب کا کیا ہو گیا وہ پیچ و تاب
گیسوئے مرغولہ مویانِ چمن کیا ہو گیا
کوئی شب اور وہ رشک قمر ہے میہمان اپنا
دکھا لے چار دن کی چاندنی یہ بھی سماں اپنا
پلک کو دے کے جنبش پھر گئی ہم سے جو آنکھ ان کی
ہوا پر اڑ گئی کشتی اٹھا کے بادباں اپنا
نہیں ہوش و خِرد کی برہمی سودائے گیسو میں
اندھیری رات میں یہ لُٹ رہا ہے کارواں اپنا
آئیے جلوۂ دیدار کے دکھلانے کو
پھونک دے برق تجلی مرے کاشانے کو
نخوت حسن پسند آئی ہے دیوانے کو
سرکشی شمع کی منظور ہے پروانے کو
دیکھیے کون سی جا یار کا ملتا ہے پتہ
کوئی کعبے کو چلا ہے کوئی بت خانے کو