عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے خُدا! دل کا حال کس سے کہوں
شرحِ رنج و ملال کس سے کہوں
لُطف و اخلاص و مہر و اُلفت کا
ہے زمانہ میں کال کس سے کہوں
اپنے لُطف و کرم سے بارِ الٰہ
دُور کر یہ وبال کس سے کہوں
ہاتھ خالی ہیں پھر ستائے نہ کیوں
عاقبت کا خیال کس سے کہوں
جُز تِری رحمت و عنایت کے
مغفرت ہے محال کس سے کہوں
ایک ہی در کی میں بھکاری ہوں
ہو اگر رد سوال کس سے کہوں
نہ سُنے تُو تو پھر بتا دے مجھے
اے شہِ ذُوالجلال! کس سے کہوں
انیسہ ہارون شروانیہ
No comments:
Post a Comment