طوفانوں کی آہٹ ہے تو ڈر جانے سے کیا ہو گا
آؤ میرا ہاتھ پکڑ لو، گھبرانے سے کیا ہو گا
میٹھی میٹھی بات سے دل کو بہلانے سے کیا ہو گا
وقت پہ جب تم آئے نہیں تو اب آنے سے کیا ہو گا
اس نے مجھ کو دیکھ کے شاید ایسا ہی کچھ سوچا تھا
فرزانوں کی بھیڑ لگی ہے، دیوانے سے کیا ہو گا
میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کب سے اصلی رُوپ تِرا
میرے آگے بھیس بدل کر اَترانے سے کیا ہو گا
نیک عمل کی خوشبو ہی اب حشر تلک کی ساتھی ہے
عطر سے اس کے جسم کو یارو نہلانے سے کیا ہو گا
کوئی نہیں ہے میرا ہمدم، کوئی نہیں ہے میرا مونس
اسلم دل کا حال کسی کو بتلانے سے کیا ہو گا
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز
No comments:
Post a Comment