Showing posts with label اعجاز حیدر. Show all posts
Showing posts with label اعجاز حیدر. Show all posts

Wednesday, 1 January 2025

بات جھوٹی اثر خیالی ہے

 بات جھوٹی اثر خیالی ہے

سرفروشی کا سر خیالی ہے

کٹ گئی خواب ٹوٹنے میں عمر

یعنی سارا سفر خیالی ہے

بھائی چارہ خلوص آشتی امن

ہے سبھی کچھ مگر خیالی ہے

Thursday, 11 April 2024

وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہے

 وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہے

اور ان کے بیچ میں بھی دشمنی پڑی ہوئی ہے

نمٹ لوں اس سے تو سوچوں گا اپنے بارے میں 

ابھی تو میرے گلے زندگی پڑی ہوئی ہے

نگاہ مجھ پہ کرے گا ضرور دشت جنوں

ذرا سی خاک مِرے سر میں بھی پڑی ہوئی ہے

Saturday, 30 December 2023

سستا رہا ہوں میں ابھی ہلکان تو نہیں

 سستا رہا ہوں میں ابھی ہلکان تو نہیں

یہ زندگی ہے اتنی بھی آسان تو نہیں

اے کاش اتفاق سے مل جائے وہ مگر

اس حسنِ اتفاق کا امکان تو نہیں

اے مستقل اداسی نہ مجھ میں قیام کر

ویران ہوں پر اتنا بھی ویران تو نہیں

Monday, 25 December 2023

خوشی کی بات تھی لیکن مجھے رلا گئی ہے

 خُوشی کی بات تھی لیکن مجھے رُلا گئی ہے

کہاں سے بات چلی تھی، کہاں تک آ گئی ہے

مِرا خُدا تو یقیناً بھرم رکھے گا مِرا

میں جانتا ہوں کہ اُس تک مِری دُعا گئی ہے

میں عام طور پہ چلتا ہوں اُس سے آگے مگر

کہیں کہیں مِرے آگے مِری انا گئی ہے

Monday, 3 May 2021

اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑئیے گا

 اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑئیے گا

حال کہہ دیجے گا حالات پہ مت چھوڑئیے گا

گاتے رہیے گا کڑی دھوپ میں بھی نغمۂ عشق

اب جنوں موسمِ برسات پہ مت چھوڑئیے گا

چشمِ حیرت میں نمی رکھیے گا وجدان کی بھی

راز سارے ہی کرامات پہ مت چھوڑئیے گا