بات جھوٹی اثر خیالی ہے
سرفروشی کا سر خیالی ہے
کٹ گئی خواب ٹوٹنے میں عمر
یعنی سارا سفر خیالی ہے
بھائی چارہ خلوص آشتی امن
ہے سبھی کچھ مگر خیالی ہے
بات جھوٹی اثر خیالی ہے
سرفروشی کا سر خیالی ہے
کٹ گئی خواب ٹوٹنے میں عمر
یعنی سارا سفر خیالی ہے
بھائی چارہ خلوص آشتی امن
ہے سبھی کچھ مگر خیالی ہے
وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہے
اور ان کے بیچ میں بھی دشمنی پڑی ہوئی ہے
نمٹ لوں اس سے تو سوچوں گا اپنے بارے میں
ابھی تو میرے گلے زندگی پڑی ہوئی ہے
نگاہ مجھ پہ کرے گا ضرور دشت جنوں
ذرا سی خاک مِرے سر میں بھی پڑی ہوئی ہے
سستا رہا ہوں میں ابھی ہلکان تو نہیں
یہ زندگی ہے اتنی بھی آسان تو نہیں
اے کاش اتفاق سے مل جائے وہ مگر
اس حسنِ اتفاق کا امکان تو نہیں
اے مستقل اداسی نہ مجھ میں قیام کر
ویران ہوں پر اتنا بھی ویران تو نہیں
خُوشی کی بات تھی لیکن مجھے رُلا گئی ہے
کہاں سے بات چلی تھی، کہاں تک آ گئی ہے
مِرا خُدا تو یقیناً بھرم رکھے گا مِرا
میں جانتا ہوں کہ اُس تک مِری دُعا گئی ہے
میں عام طور پہ چلتا ہوں اُس سے آگے مگر
کہیں کہیں مِرے آگے مِری انا گئی ہے
اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑئیے گا
حال کہہ دیجے گا حالات پہ مت چھوڑئیے گا
گاتے رہیے گا کڑی دھوپ میں بھی نغمۂ عشق
اب جنوں موسمِ برسات پہ مت چھوڑئیے گا
چشمِ حیرت میں نمی رکھیے گا وجدان کی بھی
راز سارے ہی کرامات پہ مت چھوڑئیے گا