اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑئیے گا
حال کہہ دیجے گا حالات پہ مت چھوڑئیے گا
گاتے رہیے گا کڑی دھوپ میں بھی نغمۂ عشق
اب جنوں موسمِ برسات پہ مت چھوڑئیے گا
چشمِ حیرت میں نمی رکھیے گا وجدان کی بھی
راز سارے ہی کرامات پہ مت چھوڑئیے گا
شہر میں رکھیے گا کچھ پیڑ لگانے کی جگہ
یہ فریضہ بھی مضافات پہ مت چھوڑئیے گا
یار جب دھیان میں آ جائے وہیں کیجئے رقص
جشن اب صورتِ حالات پہ مت چھوڑئیے گا
بے سبب ٹوٹ بھی جاتی ہے کبھی بات کہیں
دوست اچھا ہو تو اس بات پہ مت چھوڑئیے گا
جو بھی ہونا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا، حیدر
یعنی دل، وہم و خیالات پہ مت، چھوڑئیے گا
اعجاز حیدر
No comments:
Post a Comment