یہاں نہیں تو یقیناً وہاں ملیں گے ہم
فنا کے بعد سرِ آسماں ملیں گے ہم
اُفق کے پار زمان و مکاں کی قید نہیں
مکاں نہیں نہ سہی لا مکاں ملیں گے ہم
نگارِ زیست کی تنگ دامنی مُسلّم ہے
نئے جنم میں کہیں جاوداں ملیں گے ہم
یہ چند لمحوں کی صحبت بڑی غنیمت ہے
بچھڑ کے تم سے بھلا اب کہاں ملیں گے ہم
مجھے یقیں ہے یہ دُوری بھی مِٹ ہی جائے گی
کوئی دیار تو ہو گا جہاں ملیں گے ہم
وہ پچھلی شب کا ستارہ تو کھو گیا ہے ظہیر
نشاں کہیں بھی نہیں ، بے نشاں ملیں گے ہم
ظہیر اقبال
No comments:
Post a Comment