Showing posts with label شعیب مظہر. Show all posts
Showing posts with label شعیب مظہر. Show all posts

Tuesday, 12 July 2022

قاتل نظر ہے ٹھیک تو حسن ادا بھی ٹھیک

 قاتل نظر ہے ٹھیک تو حسنِ ادا بھی ٹھیک

گوری ہتھیلیوں پہ ہے رنگِ حنا بھی ٹھیک

کانٹوں پہ ہوں میں اور وہ پھولوں کی سیج پر

وہ تاجدارِ حُسن، میں اس کا گدا بھی ٹھیک

انجام کیا ہو دیکھیۓ، اس دل کا عشق میں

اس کی جفا بھی ٹھیک ہے، میری وفا بھی ٹھیک

Thursday, 11 November 2021

زندگی کا نصاب ہو جائیں

 زندگی کا نصاب ہو جائیں

ہم تِرے ہمرکاب ہو جائیں

تُو جسے شوق سے پڑھے دن رات

کاش ہم وہ کتاب ہو جائیں

تیرے ہاتھوں کا لمس پاتے ہی

سارے کانٹے گلاب ہو جائیں

Monday, 8 November 2021

حسن بکتا ہے خواب بکتے ہیں

 حسن بِکتا ہے خواب بِکتے ہیں

تشنگی میں سراب بکتے ہیں

ایک جلوے کے مول روزانہ

میری آنکھوں کے خواب بکتے ہیں

یہ نہ سمجھو قلم نہیں بکتے

غور کرنا جناب! بکتے ہیں

Friday, 5 November 2021

درد فرقت ترا جواب نہیں

 دردِ فرقت تُِرا جواب نہیں

تجھ سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں

اس کے ہر حرف میں ہے عکس تِرا

میرے دل سی کوئی کتاب نہیں

تنہا چلتی ہے راہِ ہستی میں

کوئی دھڑکن کا ہمرکاب نہیں

Saturday, 30 October 2021

میری بات سنو ری پگلی روتی کیوں ہو

 میری بات سنو ری پگلی

روتی کیوں ہو؟

آنسو پونچھو، چپ ہو جاؤ

لازم کب ہے جو دل اک دوجے کو چاہیں

مل بھی جائیں

کب کہتا ہوں نسبت بدلو؟

Tuesday, 26 October 2021

دی یاد نے دستک جو کبھی خواب میں آ کر

 دی یاد نے دستک جو کبھی خواب میں آ کر

تصویر تِری چوم لی آنکھوں سے لگا کر

رہتی ہیں تعاقب میں ہوس کار نگاہیں

اے حسن! سرِ بزم تُو پردے میں رہا کر

تُو مجھ کو کہاں ڈھونڈتا پھرتا ہے جہاں میں

رہتا ہوں تِرے دل میں کبھی دیکھ لیا کر

Monday, 25 October 2021

میں بچپنے میں حلاوت بھری ترنگ میں تھا

 میں بچپنے میں حلاوت بھری ترنگ میں تھا

مزا حیات کا آب و ہوائے جھنگ میں تھا

جنوں زدہ تھا یہ غصے بھرا مزاج مِرا

مگر میں خوش تھا، تِری چاہتوں کے رنگ میں تھا

یہ گرتے گرتے بھی رخ پر تِرے ہی جا کے گری

شعور کتنا نظر کی کٹی پتنگ میں تھا

Friday, 22 October 2021

دوست سارے کبھی غمخوار نہیں ہوتے ناں

 دوست سارے کبھی غمخوار نہیں ہوتے ناں

ایک جیسے سبھی کردار نہیں ہوتے ناں

چشمِ تر دیکھ وہ کچھ دیر میں آتے ہوں گے

دیر ہو جائے تو بے زار نہیں ہوتے ناں

کوششیں سجنے سنورنے کی ہیں بے کار سبھی

یار سے روٹھ کے سنگھار نہیں ہوتے ناں 

Thursday, 21 October 2021

پانے میں نہ کھونے میں سکھ

 بے بسی


پانے میں نہ کھونے میں سکھ

ہنسنے میں نہ رونے میں سکھ

اب تو یوں ہے

ہنسنے رونے کا مطلب تبدیل ہوا ہے

تیرا ملنا بھی غم کی تمثیل ہوا ہے

Friday, 15 October 2021

پہلو میں جگہ دیتے اور دل میں اتر جاتے

 پہلو میں جگہ دیتے اور دل میں اتر جاتے

تم حسنِ نظر کرتے تو ہم بھی نکھر جاتے

ہم کو جو یقیں ہوتا تم ہم کو سمیٹو گے

تاخیر نہ کرتے ہم، اک پَل میں بکھر جاتے

آنکھوں میں مِری تکتے، سوچوں میں ذرا کھوتے

کچھ تم بھی سنور جاتے، کچھ ہم بھی سنور جاتے

Thursday, 22 July 2021

کرتے ہیں مرے نام وہ اک شام علیحدہ

 کرتے ہیں مِرے نام وہ اک شام علیحدہ

ان کے ہیں زمانے سے سبھی کام علیحدہ

اس دل سے حسینوں کو نکالا نہیں جاتا

بت خانے سے ہوتے نہیں اصنام علیحدہ

دل پر ہیں کئی زخم جو دیکھے نہیں جاتے

یہ عشق الگ روگ ہے، آلام علیحدہ