قاتل نظر ہے ٹھیک تو حسنِ ادا بھی ٹھیک
گوری ہتھیلیوں پہ ہے رنگِ حنا بھی ٹھیک
کانٹوں پہ ہوں میں اور وہ پھولوں کی سیج پر
وہ تاجدارِ حُسن، میں اس کا گدا بھی ٹھیک
انجام کیا ہو دیکھیۓ، اس دل کا عشق میں
اس کی جفا بھی ٹھیک ہے، میری وفا بھی ٹھیک
قاتل نظر ہے ٹھیک تو حسنِ ادا بھی ٹھیک
گوری ہتھیلیوں پہ ہے رنگِ حنا بھی ٹھیک
کانٹوں پہ ہوں میں اور وہ پھولوں کی سیج پر
وہ تاجدارِ حُسن، میں اس کا گدا بھی ٹھیک
انجام کیا ہو دیکھیۓ، اس دل کا عشق میں
اس کی جفا بھی ٹھیک ہے، میری وفا بھی ٹھیک
زندگی کا نصاب ہو جائیں
ہم تِرے ہمرکاب ہو جائیں
تُو جسے شوق سے پڑھے دن رات
کاش ہم وہ کتاب ہو جائیں
تیرے ہاتھوں کا لمس پاتے ہی
سارے کانٹے گلاب ہو جائیں
حسن بِکتا ہے خواب بِکتے ہیں
تشنگی میں سراب بکتے ہیں
ایک جلوے کے مول روزانہ
میری آنکھوں کے خواب بکتے ہیں
یہ نہ سمجھو قلم نہیں بکتے
غور کرنا جناب! بکتے ہیں
دردِ فرقت تُِرا جواب نہیں
تجھ سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں
اس کے ہر حرف میں ہے عکس تِرا
میرے دل سی کوئی کتاب نہیں
تنہا چلتی ہے راہِ ہستی میں
کوئی دھڑکن کا ہمرکاب نہیں
میری بات سنو ری پگلی
روتی کیوں ہو؟
آنسو پونچھو، چپ ہو جاؤ
لازم کب ہے جو دل اک دوجے کو چاہیں
مل بھی جائیں
کب کہتا ہوں نسبت بدلو؟
دی یاد نے دستک جو کبھی خواب میں آ کر
تصویر تِری چوم لی آنکھوں سے لگا کر
رہتی ہیں تعاقب میں ہوس کار نگاہیں
اے حسن! سرِ بزم تُو پردے میں رہا کر
تُو مجھ کو کہاں ڈھونڈتا پھرتا ہے جہاں میں
رہتا ہوں تِرے دل میں کبھی دیکھ لیا کر
میں بچپنے میں حلاوت بھری ترنگ میں تھا
مزا حیات کا آب و ہوائے جھنگ میں تھا
جنوں زدہ تھا یہ غصے بھرا مزاج مِرا
مگر میں خوش تھا، تِری چاہتوں کے رنگ میں تھا
یہ گرتے گرتے بھی رخ پر تِرے ہی جا کے گری
شعور کتنا نظر کی کٹی پتنگ میں تھا
دوست سارے کبھی غمخوار نہیں ہوتے ناں
ایک جیسے سبھی کردار نہیں ہوتے ناں
چشمِ تر دیکھ وہ کچھ دیر میں آتے ہوں گے
دیر ہو جائے تو بے زار نہیں ہوتے ناں
کوششیں سجنے سنورنے کی ہیں بے کار سبھی
یار سے روٹھ کے سنگھار نہیں ہوتے ناں
بے بسی
پانے میں نہ کھونے میں سکھ
ہنسنے میں نہ رونے میں سکھ
اب تو یوں ہے
ہنسنے رونے کا مطلب تبدیل ہوا ہے
تیرا ملنا بھی غم کی تمثیل ہوا ہے
پہلو میں جگہ دیتے اور دل میں اتر جاتے
تم حسنِ نظر کرتے تو ہم بھی نکھر جاتے
ہم کو جو یقیں ہوتا تم ہم کو سمیٹو گے
تاخیر نہ کرتے ہم، اک پَل میں بکھر جاتے
آنکھوں میں مِری تکتے، سوچوں میں ذرا کھوتے
کچھ تم بھی سنور جاتے، کچھ ہم بھی سنور جاتے
کرتے ہیں مِرے نام وہ اک شام علیحدہ
ان کے ہیں زمانے سے سبھی کام علیحدہ
اس دل سے حسینوں کو نکالا نہیں جاتا
بت خانے سے ہوتے نہیں اصنام علیحدہ
دل پر ہیں کئی زخم جو دیکھے نہیں جاتے
یہ عشق الگ روگ ہے، آلام علیحدہ