حسن بِکتا ہے خواب بِکتے ہیں
تشنگی میں سراب بکتے ہیں
ایک جلوے کے مول روزانہ
میری آنکھوں کے خواب بکتے ہیں
یہ نہ سمجھو قلم نہیں بکتے
غور کرنا جناب! بکتے ہیں
یہ گناہوں کی ایسی بستی ہے
جس میں اہلِ ثواب بکتے ہیں
جن کا ہوتا نہیں ضمیر کوئی
ایسے خانہ خراب بکتے ہیں
تیری آنکھوں کے جام کی خاطر
مجھ سے عزت مآب بکتے ہیں
لے کے رنگت تمہارے ہونٹوں سے
خوبصورت گلاب بکتے ہیں
شعر فن کا لباس پہنیں تو
بن کے حسنِ کتاب بکتے ہیں
دور کیسا یہ آ گیا مظہر
کوڑیوں میں خطاب بکتے ہیں
شعیب مظہر
No comments:
Post a Comment