Showing posts with label کیفی مہکاری. Show all posts
Showing posts with label کیفی مہکاری. Show all posts

Tuesday, 3 February 2026

خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا

 خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا

گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا

مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا

طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں

لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا

Thursday, 15 May 2025

نہ دے فریب وفا لے نہ امتحاں اپنا

 نہ دے فریب وفا لے نہ امتحاں اپنا

ہے بے‌ نیاز کرم یار بد گماں اپنا

پہنچ چکے تھے سر شاخ گل اسیر ہوئے

لٹا ہے سامنے منزل کے کارواں اپنا

ہر ایک ذرۂ عالم ہے اور سجدۂ شوق

رکھیں اٹھا کے وہ اب سنگ آستاں اپنا

Friday, 29 October 2021

نئے سرے سے پھر آج کیفی ہم اپنی دنیا بسا رہے ہیں

نئے سرے سے پھر آج کیفی ہم اپنی دنیا بسا رہے ہیں

جو کھو چکے اس سے بے خبر ہیں جو رہ گیا وہ لٹا رہے ہیں

نشاط امروز کی قسم ہے کہ دل نے سب محفلیں بھلا دیں

دئیے تھے ماضی نے داغ جتنے وہ خود بہ خود مٹتے جا رہے ہیں

خوشا یہ دور شباب ان کا یہ دل نواز التفات ان کا

کہ بے پیے آج ہر قدم پر مِرے قدم لڑکھڑا رہے ہیں

Tuesday, 13 December 2016

ستم کے پردے میں پھر کرم کر سکون کو اضطراب کر دے

 ستم کے پردے میں پھر کرم کر سکون کو اضطراب کر دے 

دل فسردہ کو زندگی دے،۔ شباب کو پھر شباب کر دے 

یہ مانا لاکھوں حکایتیں ہیں، ہزاروں دل میں شکایتیں ہیں 

مگر کہیں کیا جو اک نظر میں، کوئی ہمیں لا جواب کر دے 

ٹھہر دل بے قرار دم بھر، وہ آئے ہیں بے حجاب ہو کر 

سنبھل کہ یہ اضطراب نو ہی، کہیں نہ حائل نقاب کر دے