خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا
گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا
یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا
مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا
طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں
لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا
خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا
گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا
یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا
مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا
طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں
لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا
نہ دے فریب وفا لے نہ امتحاں اپنا
ہے بے نیاز کرم یار بد گماں اپنا
پہنچ چکے تھے سر شاخ گل اسیر ہوئے
لٹا ہے سامنے منزل کے کارواں اپنا
ہر ایک ذرۂ عالم ہے اور سجدۂ شوق
رکھیں اٹھا کے وہ اب سنگ آستاں اپنا
نئے سرے سے پھر آج کیفی ہم اپنی دنیا بسا رہے ہیں
جو کھو چکے اس سے بے خبر ہیں جو رہ گیا وہ لٹا رہے ہیں
نشاط امروز کی قسم ہے کہ دل نے سب محفلیں بھلا دیں
دئیے تھے ماضی نے داغ جتنے وہ خود بہ خود مٹتے جا رہے ہیں
خوشا یہ دور شباب ان کا یہ دل نواز التفات ان کا
کہ بے پیے آج ہر قدم پر مِرے قدم لڑکھڑا رہے ہیں
ستم کے پردے میں پھر کرم کر سکون کو اضطراب کر دے
دل فسردہ کو زندگی دے،۔ شباب کو پھر شباب کر دے
یہ مانا لاکھوں حکایتیں ہیں، ہزاروں دل میں شکایتیں ہیں
مگر کہیں کیا جو اک نظر میں، کوئی ہمیں لا جواب کر دے
ٹھہر دل بے قرار دم بھر، وہ آئے ہیں بے حجاب ہو کر
سنبھل کہ یہ اضطراب نو ہی، کہیں نہ حائل نقاب کر دے