Monday, 15 June 2026

میں دیکھتی ہوں پیڑ کٹ رہے ہیں

 خالی کاغذ


میں دیکھتی ہوں

پیڑ کٹ رہے ہیں

آشیانے بکھر رہے ہیں 

میں دیکھتی ہوں

شاخیں قلم بنی ہیں

خشک ٹہنیوں کا ماس

قرطاس بن کر بچھ رہا ہے

میں دیکھتی ہوں 

چھاپے خانے بڑھ رہے ہیں

کتابوں کے انبار لگ رہے ہیں

نام دھڑا دھڑ بک رہے ہیں

لفظ لکھے جاتے ہیں

لفظ پڑھے جاتے ہیں

مگر لوگ کیا پڑھ رہے ہیں؟

اوراق کے بدن داغوں سے اٹے ہیں

صفحوں کے ماتھے روشنائی کے 

بدنما دھبوں سے بھرے ہیں

لفظ کہیں کھو گئے ہیں

میرے گمشدہ 

میرے ہجرت زدہ

جانے کس دیس جا بسے ہیں

رنگوں سے سجی چمکتی جلد کے اندر 

وائٹ پیپر سے تعفن سا اٹھ رہا ہے

لکھنے والے نے تصویر کی خاطر 

یہ جو لفظ نما سا کچھ لکھا ہے

انھیں پڑھتے ہوئے شناور ہاتھوں کی

معنی تلاشتی انگلیوں میں

نا محسوس سا رعشہ اتر رہا ہے 

بد بو کے بھبھکے  اٹھ رہے ہیں

شاید یہ فریبِ خودنمائی میں بھٹکتی

حرص و ہوس کی کوکھ میں پلتی 

بھوک کے تپ زدہ معدے کی قے ہے

ہاں میں دیکھتی ہوں 

اے حرفوں کے خدا

میں دیکھتی ہوں

٭ن والقلم کی صدا ہے جاری 

اور کاتب  کا سر جھکا ہے

کاغذ ابھی تک خالی پڑا ہے


سیدہ آیت گیلانی

٭(سورۂ القلم) ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ

No comments:

Post a Comment