خالی کاغذ
میں دیکھتی ہوں
پیڑ کٹ رہے ہیں
آشیانے بکھر رہے ہیں
میں دیکھتی ہوں
شاخیں قلم بنی ہیں
خشک ٹہنیوں کا ماس
قرطاس بن کر بچھ رہا ہے
میں دیکھتی ہوں
چھاپے خانے بڑھ رہے ہیں
کتابوں کے انبار لگ رہے ہیں
نام دھڑا دھڑ بک رہے ہیں
لفظ لکھے جاتے ہیں
لفظ پڑھے جاتے ہیں
مگر لوگ کیا پڑھ رہے ہیں؟
اوراق کے بدن داغوں سے اٹے ہیں
صفحوں کے ماتھے روشنائی کے
بدنما دھبوں سے بھرے ہیں
لفظ کہیں کھو گئے ہیں
میرے گمشدہ
میرے ہجرت زدہ
جانے کس دیس جا بسے ہیں
رنگوں سے سجی چمکتی جلد کے اندر
وائٹ پیپر سے تعفن سا اٹھ رہا ہے
لکھنے والے نے تصویر کی خاطر
یہ جو لفظ نما سا کچھ لکھا ہے
انھیں پڑھتے ہوئے شناور ہاتھوں کی
معنی تلاشتی انگلیوں میں
نا محسوس سا رعشہ اتر رہا ہے
بد بو کے بھبھکے اٹھ رہے ہیں
شاید یہ فریبِ خودنمائی میں بھٹکتی
حرص و ہوس کی کوکھ میں پلتی
بھوک کے تپ زدہ معدے کی قے ہے
ہاں میں دیکھتی ہوں
اے حرفوں کے خدا
میں دیکھتی ہوں
٭ن والقلم کی صدا ہے جاری
اور کاتب کا سر جھکا ہے
کاغذ ابھی تک خالی پڑا ہے
سیدہ آیت گیلانی
٭(سورۂ القلم) ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ
No comments:
Post a Comment