Tuesday, 30 June 2026

کس طرح وہ عالم کو نہ دیوانہ بنا دے

 کس طرح وہ عالم کو نہ دیوانہ بنا دے

یہ حُسن، یہ انداز و ادا جس کو خُدا دے

دیکھی نہیں جاتی ہے کسی سے مِری حالت

اب وہ بھی یہ کہتے ہیں؛ خُدا اس کو شفا دے

پھر ہوش کے عالم میں بھلا آؤں میں کیونکر

غش میں مجھے دامن سے جو وہ اپنے ہوا دے

جانبازئ پروانہ پہ کیجے نہ تعجب🔥

قسمت ہے، جسے ہمتِ مردانہ خُدا دے

وہ دیکھ کے کہتے ہیں مِری نزع میں اُلجھن

”یوں موت جوانی میں کسی کو نہ خُدا دے”

کیا جانے وہ ، کیا لُطف ہے آشفتہ سری میں

جب تک نہ کسی کو دلِ دیوانہ خُدا دے

موسیٰؑ! طلبِ دید پہ اصرار نہ کیجے

کیا ہو، جو نقابِ رخِ روشن وہ اُٹھا دے

خلقت کی زباں کا ہے یہ ادنیٰ سا کرشمہ

تھوڑی سی ہو بات اور وہ افسانہ بنا دے

آئے ہیں عیادت کو سرہانے دمِ آخر

اللہ، مِری نزع کے لمحات بڑھا دے

کیوں سجدے میں اس کے نہ جُھکیں سب کی جبینیں

اک خاک کے پُتلے کو جو انسان بنا دے


محمد باقر شمس

No comments:

Post a Comment