ہم چل پڑے تھے، جسم شکستوں سے چُور تھا
صحرا تھا ہم سے دُور، سمندر بھی دُور تھا
یک لخت دل کو تھام کے بیٹھا ہے آسمان
قطعہ زمیں کا آج جو بھڑکا وہ طُور تھا
پاؤں انا کی بیڑیوں نے باندھے تھے مگر
ملنے کے واسطے مجھے آنا ضرُور تھا
مجھ کو بُلاتی تھی نہ کلی باغ کی طرف
ورنہ دماغِ گُل تو بہت ذی شعُور تھا
اندھےکو روشنی کی سماعت کہاں ملی
رستہ بتا رہا ہے ہمیں وہ جو اور تھا
پرواز آسمان سے دیکھی نہیں گئی
مٹی میں مَل گیا مِرا جتنا غرُور تھا
چُپ چاپ تک رہے ہیں کرن شش جہت کو ہم
اس سے زیادہ ذرۂ دل میں نشُور تھا
کرن منتہیٰ
No comments:
Post a Comment