جو الفت میں مٹا رسوا ہوا سارے زمانے میں
یہی حاصل تو ہوتا ہے کسی سے دل لگانے میں
بجز آزار و غم کے نفع کیا ہے دل لگانے میں
دھرا ہے اور کیا عشق و محبت کے فسانے میں
یہی خواہش ہے ان کی خون ہو میری تمنا کا
شبِ وعدہ نہ ہوں مشغول کیوں مہندی لگانے میں
کسے ہم جان لیں سچا کسے ہم جان لیں جھوٹا
کہ سو پہلو ہوا کرتے ہیں ان کے ہر بہانےمیں
جو ان کو کھول دیں تو دل پھنسا لیں اہل الفت کا
وہ اپنے گیسوؤں کو کیوں پھنسا رکھتے ہیں شانے میں
انہیں میں جانتا بھی ہوں انہیں پہچانتا بھی ہوں
بڑے فرزانہ و کامل ہیں وہ باتیں بنانے میں
ہزاروں طالبِ دیدار زندہ ہو گئے مر کر
سرِ حشر اب انہیں کیا دیر ہے تشریف لانے میں
ابھی تو زندہ ہوتے ہیں ہزاروں سال کے مردے
بگڑتا کیا ہے تیرا اے مسیحا لب ہلانے میں
خیالِ زلف میں رہتا ہے یوں اپنا دلِ مضطر
اسیر غم بسر کرتا ہو جیسے قید خانے میں
ہم اپنی کہہ سناتے ہیں وہ اپنا کہہ سناتا ہے
مزا ملنے لگا دونوں کو الفت کے فسانے میں
نفس کی آمد و شد کوئی دم میں بند ہوتی ہے
بہت تاخیر کر دی نامہ بر نے آنے جانے میں
اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا
نہیں کچھ دخل اے حامد خدا کے کارخانے میں
حامد حسین حامد عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment