چھوڑ جانے والوں پر مسکرا رہا ہوں میں
اک نئی محبت کا حظ اٹھا رہا ہوں میں
مل گئی تھی بارش میں، ایک بھیگتی لڑکی
دیدنی نظارہ تھا، دیکھتا رہا ہوں میں
کور ذوق لوگوں کو شاعری سے کیا لینا
یہ چراغ اندھوں میں بانٹتا رہا ہوں میں
چھوڑ جانے والوں پر مسکرا رہا ہوں میں
اک نئی محبت کا حظ اٹھا رہا ہوں میں
مل گئی تھی بارش میں، ایک بھیگتی لڑکی
دیدنی نظارہ تھا، دیکھتا رہا ہوں میں
کور ذوق لوگوں کو شاعری سے کیا لینا
یہ چراغ اندھوں میں بانٹتا رہا ہوں میں
سب سے یہی کہتا ہوں کہ ہاں ہے مِری جاگیر
یہ شوکتِ الفاظ و بیاں ہے مری جاگیر
ڈرتا ہوں کسی موڑ پہ چھن جائے نہ مجھ سے
بچپن سے جو احساسِ زیاں ہے مری جاگیر
بجھتی ہوئی شاموں کے اثاثے ہیں مرے پاس
افسردہ چراغوں کا دھواں ہے مری جاگیر
جنسِ دل لے کر بھرے بازار تک پہنچا نہیں
ایک تک پہنچا ہوں میں، دو چار تک پہنچا نہیں
میرے پہلو سے گریزاں ہے، وہ میرا خوش بدن
اک ہرن ہے جو ابھی تاتار تک پہنچا نہیں
دیکھنے میں کچھ نہیں ہے، وقت کی یہ آبجو
کوئی لیکن اس ندی کے پار تک پہنچا نہیں
زخم نیلے پھول جیسا دے کے رُخصت ہو گیا
وہ ہمیں کیسا یہ تحفہ دے کے رخصت ہو گیا
کس کی آہٹ رات بھر مصرع کشی کرتی رہی
کون سناٹوں کو لہجہ دے کے رخصت ہو گیا
صبح کی پہلی کرن کے جاگنے میں دیر تھی
چاند پیشانی پہ بوسہ دے کے رخصت ہو گیا
اسے پسند ہیں جو روز و شب تماشے ہیں
تماش بین کی دنیا ہی اب تماشے ہیں
ہماری قوم کو جب سے ملی ہے آزادی
ہمارے ملک میں جاری عجب تماشے ہیں
تجھے طریقتِ عشاق کی خبر ہی نہیں
تِری نگاہ میں وہ چشم و لب تماشے ہیں
چپ چاپ سرِ شہر وفا سوچ رہے ہو
لگتا ہے کوئی اپنی خطا سوچ رہے ہو
وہ کون ہے گزرا تھا جو اس راہگزر سے
کس کے ہیں نقوشِ کفِ پا سوچ رہے ہو
تم سوچتے رہتے ہو کہ کیا دیکھ رہا ہوں
میں دیکھتا رہتا ہوں کہ کیا سوچ رہے ہو
فضائے شہر کو وحشت اثر تسلیم کرتے ہیں
دلوں میں چُھپ کے بیٹھا ہے جو ڈر، تسلیم کرتے ہیں
ہمارے گھر کی تنہائی پہ پورا حق ہمارا ہے
اِسے ہم اپنے آنگن کا شجر تسلیم کرتے ہیں
جو سچ پوچھو تو اب وہ شے نہیں اپنے ٹھکانے پر
یہ ہم ہیں جو اُسے اب تک اُدھر تسلیم کرتے ہیں