Showing posts with label یاور عظیم. Show all posts
Showing posts with label یاور عظیم. Show all posts

Friday, 7 April 2023

چھوڑ جانے والوں پر مسکرا رہا ہوں میں

 چھوڑ جانے والوں پر مسکرا رہا ہوں میں

اک نئی محبت کا حظ اٹھا رہا ہوں میں

مل گئی تھی بارش میں، ایک بھیگتی لڑکی

دیدنی نظارہ تھا، دیکھتا رہا ہوں میں

کور ذوق لوگوں کو شاعری سے کیا لینا

یہ چراغ اندھوں میں بانٹتا رہا ہوں میں

Saturday, 11 February 2023

سب سے یہی کہتا ہوں کہ ہاں ہے مری جاگیر

 سب سے یہی کہتا ہوں کہ ہاں ہے مِری جاگیر

یہ شوکتِ الفاظ و بیاں ہے مری جاگیر

ڈرتا ہوں کسی موڑ پہ چھن جائے نہ مجھ سے

بچپن سے جو احساسِ زیاں ہے مری جاگیر

بجھتی ہوئی شاموں کے اثاثے ہیں مرے پاس

افسردہ چراغوں کا دھواں ہے مری جاگیر

Monday, 7 March 2022

جنس دل لے کر بھرے بازار تک پہنچا نہیں

 جنسِ دل لے کر بھرے بازار تک پہنچا نہیں

ایک تک پہنچا ہوں میں، دو چار تک پہنچا نہیں

میرے پہلو سے گریزاں ہے، وہ میرا خوش بدن

اک ہرن ہے جو ابھی تاتار تک پہنچا نہیں

دیکھنے میں کچھ نہیں ہے، وقت کی یہ آبجو

کوئی لیکن اس ندی کے پار تک پہنچا نہیں

Wednesday, 16 February 2022

زخم نیلے پھول جیسا دے کے رخصت ہو گیا

 زخم نیلے پھول جیسا دے کے رُخصت ہو گیا 

وہ ہمیں کیسا یہ تحفہ دے کے رخصت ہو گیا 

کس کی آہٹ رات بھر مصرع کشی کرتی رہی 

کون سناٹوں کو لہجہ دے کے رخصت ہو گیا 

صبح کی پہلی کرن کے جاگنے میں دیر تھی

چاند پیشانی پہ بوسہ دے کے رخصت ہو گیا

Tuesday, 8 February 2022

اسے پسند ہیں جو روز و شب تماشے ہیں

 اسے پسند ہیں جو روز و شب تماشے ہیں

تماش بین کی دنیا ہی اب تماشے ہیں

ہماری قوم کو جب سے ملی ہے آزادی

ہمارے ملک میں جاری عجب تماشے ہیں

تجھے طریقتِ عشاق کی خبر ہی نہیں

تِری نگاہ میں وہ چشم و لب تماشے ہیں

Monday, 7 February 2022

چپ چاپ سر شہر وفا سوچ رہے ہو

 چپ چاپ سرِ شہر وفا سوچ رہے ہو

لگتا ہے کوئی اپنی خطا سوچ رہے ہو

وہ کون ہے گزرا تھا جو اس راہگزر سے

کس کے ہیں نقوشِ کفِ پا سوچ رہے ہو

تم سوچتے رہتے ہو کہ کیا دیکھ رہا ہوں

میں دیکھتا رہتا ہوں کہ کیا سوچ رہے ہو

Sunday, 6 February 2022

فضائے شہر کو وحشت اثر تسلیم کرتے ہیں

 فضائے شہر کو وحشت اثر تسلیم کرتے ہیں

دلوں میں چُھپ کے بیٹھا ہے جو ڈر، تسلیم کرتے ہیں

ہمارے گھر کی تنہائی پہ پورا حق ہمارا ہے

اِسے ہم اپنے آنگن کا شجر تسلیم کرتے ہیں

جو سچ پوچھو تو اب وہ شے نہیں اپنے ٹھکانے پر

یہ ہم ہیں جو اُسے اب تک اُدھر تسلیم کرتے ہیں