ستم ظریف
گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں
ہزاروں رفتگاں
جن کے نشانِ پا
کہیں مدغم، کہیں واضح
بلا مقصد پڑے ہیں
پڑے بھی اس لیے ہیں کہ نشانِ پا کی قسمت ہی یہی ہے
نشانِ پا کے رشتے مٹیوں سے
مٹیوں کی نرمیوں اور سختیوں کے رہنِ منت ہیں
لہٰذا ان سے یا پھر رفتگاں سے کیسا شکوہ کیا گِلہ
یہ سازش مٹیوں کی ہے
کہ میں بھی اب گھنے جنگل میں ہوں
تنہا
پریشاں
ہوا کی سائیں سائیں
میری سِسکی
خوف کے آسیب
میرے پیچھے میرے نقشِ پا
اور میرے آگے رفتگاں کے
حسین تاج رضوی
No comments:
Post a Comment