خشک خشک آنکھوں کا، اور کیا کیا جائے
گاہے گاہے اشکوں سے، ان کو دھو لیا جائے
ٹھیک ہے کہ سینے میں گُھٹ رہی ہیں آوازیں
کوئی سننے والا ہو، تب تو کچھ کہا جائے
ورنہ عمر بھر اک ڈر، پاؤں روک رکھے گا
وقت آ گیا ہے اب، بھیڑ میں چلا جائے
خشک خشک آنکھوں کا، اور کیا کیا جائے
گاہے گاہے اشکوں سے، ان کو دھو لیا جائے
ٹھیک ہے کہ سینے میں گُھٹ رہی ہیں آوازیں
کوئی سننے والا ہو، تب تو کچھ کہا جائے
ورنہ عمر بھر اک ڈر، پاؤں روک رکھے گا
وقت آ گیا ہے اب، بھیڑ میں چلا جائے
عزیزو بتاؤ کدھر جا رہے ہو
ہے منزل ادھر
تم کدھر جا رہے ہو
بظاہر چلے تو ہو منزل کی جانب
مگر راستوں کا پتہ بھی ہے تم کو
کسی رہبری کی ضرورت نہیں ہے
سمجھدار ہو کر بھی کیا خود سری ہے
ہوا کی زد پہ تو کوئی چراغ رہنے دے
یہ حوصلوں کی لڑائی ہے اس کو چلنے دے
نہ جانے کون بھٹکتا ہوا چلا آئے؟
کواڑ بند کیا ہے، دِیا تو جلنے دے
ابھی تو اور اٹھیں گے نقاب چہروں سے
یہ اقتدار کا سورج تو اور ڈھلنے دے
دل پہ گزری جو زباں تک نہیں لانے والے
ہم ہیں زخموں کے بہت ناز اٹھانے والے
کیسی بستی ہے خدا جانے یہ اسرار ہے کیا
لوٹ کر پھر نہیں آتے کبھی جانے والے
تُو بہت شور مچاتا ہے مِرے پہلو میں
ہم تِری بات میں اے دل! نہیں آنے والے
عذاب جتنے ہیں سارے ہماری خاطر ہیں
تمہارے پاس تو مال و متاع وافر ہیں
وہ جن کے پاؤں میں چل چل کے پڑ گئے چھالے
وہ راہِ عشق نہیں بھوک کے مسافر ہیں
یہ شہ کے ساتھ مصاحب بنے جو پھرتے ہیں
یہ کہہ رہے ہیں کہ سب لوگ تیری خاطر ہیں
بدن کے سارے دفینوں کو چاٹ جاتی ہے
یہ مفلسی، مِری پرواز کاٹ جاتی ہے
میں دشمنی بھی سلیقہ سے کر نہیں پاتا
کہ مصلحت مِری تلخی بھی پاٹ جاتی ہے
کبھی تو یوں ہے کہ بازو نہیں میسر ہیں
کبھی ہوا ہے کہ پرواز کاٹ جاتی ہے
چراغ جل بھی رہا ہے ہوا کا ڈر بھی ہے
مِری دعاؤں پہ لیکن تِری نظر بھی ہے
گھروں کو پُھونکنے والے ذرا یہ دیکھ بھی لے
اسی گلی میں سُنا ہے کہ تیرا گھر بھی ہے
میں گھر سے نکلوں تو بے خوف ہو نکلتا ہوں
کہ میری ماں کی دعا میری ہمسفر بھی ہے