Showing posts with label عبداللہ ندیم. Show all posts
Showing posts with label عبداللہ ندیم. Show all posts

Thursday, 8 December 2022

خشک خشک آنکھوں کا اور کیا کیا جائے

 خشک خشک آنکھوں کا، اور کیا کیا جائے

گاہے گاہے اشکوں سے، ان کو دھو لیا جائے

ٹھیک ہے کہ سینے میں گُھٹ رہی ہیں آوازیں

کوئی سننے والا ہو، تب تو کچھ کہا جائے

ورنہ عمر بھر اک ڈر، پاؤں روک رکھے گا

وقت آ گیا ہے اب، بھیڑ میں چلا جائے

Friday, 1 July 2022

عزیزو بتاؤ کدھر جا رہے ہو

عزیزو بتاؤ کدھر جا رہے ہو

ہے منزل ادھر

تم کدھر جا رہے ہو

بظاہر چلے تو ہو منزل کی جانب

مگر راستوں کا پتہ بھی ہے تم کو

کسی رہبری کی ضرورت نہیں ہے

سمجھدار ہو کر بھی کیا خود سری ہے

Tuesday, 21 June 2022

ہوا کی زد پہ تو کوئی چراغ رہنے دے

 ہوا کی زد پہ تو کوئی چراغ رہنے دے

یہ حوصلوں کی لڑائی ہے اس کو چلنے دے

نہ جانے کون بھٹکتا ہوا چلا آئے؟

کواڑ بند کیا ہے، دِیا تو جلنے دے

ابھی تو اور اٹھیں گے نقاب چہروں سے

یہ اقتدار کا سورج تو اور ڈھلنے دے

Tuesday, 14 June 2022

دل پہ گزری جو زباں تک نہیں لانے والے

 دل پہ گزری جو زباں تک نہیں لانے والے

ہم ہیں زخموں کے بہت ناز اٹھانے والے

کیسی بستی ہے خدا جانے یہ اسرار ہے کیا

لوٹ کر پھر نہیں آتے کبھی جانے والے

تُو بہت شور مچاتا ہے مِرے پہلو میں

ہم تِری بات میں اے دل! نہیں آنے والے

Monday, 13 June 2022

عذاب جتنے ہیں سارے ہماری خاطر ہیں

 عذاب جتنے ہیں سارے ہماری خاطر ہیں

تمہارے پاس تو مال و متاع وافر ہیں

وہ جن کے پاؤں میں چل چل کے پڑ گئے چھالے

وہ راہِ عشق نہیں بھوک کے مسافر ہیں

یہ شہ کے ساتھ مصاحب بنے جو پھرتے ہیں

یہ کہہ رہے ہیں کہ سب لوگ تیری خاطر ہیں

Sunday, 12 June 2022

بدن کے سارے دفینوں کو چاٹ جاتی ہے

 بدن کے سارے دفینوں کو چاٹ جاتی ہے

یہ مفلسی، مِری پرواز کاٹ جاتی ہے

میں دشمنی بھی سلیقہ سے کر نہیں پاتا

کہ مصلحت مِری تلخی بھی پاٹ جاتی ہے

کبھی تو یوں ہے کہ بازو نہیں میسر ہیں

کبھی ہوا ہے کہ پرواز کاٹ جاتی ہے

Saturday, 11 June 2022

چراغ جل بھی رہا ہے ہوا کا ڈر بھی ہے

 چراغ جل بھی رہا ہے ہوا کا ڈر بھی ہے

مِری دعاؤں پہ لیکن تِری نظر بھی ہے

گھروں کو پُھونکنے والے ذرا یہ دیکھ بھی لے

اسی گلی میں سُنا ہے کہ تیرا گھر بھی ہے

میں گھر سے نکلوں تو بے خوف ہو نکلتا ہوں

کہ میری ماں کی دعا میری ہمسفر بھی ہے