Showing posts with label سرور عالم راز. Show all posts
Showing posts with label سرور عالم راز. Show all posts

Saturday, 5 December 2020

ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا

 ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا

ایک پردہ جو اٹھا، دوسرا پردا نکلا

منظرِ زیست سراسر تہ و بالا نکلا

غور سے دیکھا تو ہر شخص تماشا نکلا

ایک ہی رنگ کا غم خانۂ دنیا نکلا

غمِ جاناں بھی غمِ زیست کا سایا نکلا

وارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھئے

 وارفتگئ شوق کی شدت نہ پوچھۓ

کیا ہے دلِ خراب کی حالت نہ پوچھۓ

یہ عشق ہے کہ ایک مصیبت نہ پوچھۓ

آوارگئ کوئے ملامت نہ پوچھۓ

ہم تو درِ حبیب کے سجدہ گزار ہیں

ہم سے رموزِ زہد و عبادت نہ پوچھۓ

Tuesday, 16 August 2016

آفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہے

آفت ہے مصیبت ہے قیامت ہے بلا ہے
یہ عشقِ ستم گار خدا جانئے کیا ہے
سب میری خطا ہے کہ زمانہ کی ہوا ہے
دل ہے کہ اسی سوچ میں دن رات لگا ہے
سایہ سا نگاہوں میں مِری کوئ بسا ہے
للہ بتائے کوئی آخر کہ یہ کیا ہے

بے نام ہوں بے کار ہوں بدنام نہیں ہوں

بے نام ہوں، بے کار ہوں، بدنام نہیں ہوں
شاعر ہوں مگر مستِ مۓ خام نہیں ہوں
اک عمر ترے در پہ ہی سجدوں میں کٹی ہے
یہ کیسے کہا،۔۔ واقفِ اسلام نہیں ہوں
اتنا نہ ستا، دیکھ! مجھے گردشِ دوراں
کمزور ہوں،۔ شائستۂ آلام نہیں ہوں

کوچہ کوچہ نگر نگر دیکھا

کوچہ کوچہ، نگر نگر دیکھا
خود میں دیکھا، اسے اگر دیکھا
قصۂ زیست مختصر دیکھا
جیسے اک خواب رات بھر دیکھا
در ہی دیکھا نہ تُو نے گھر دیکھا
زندگی! تجھ کو خوب کر دیکھا

Sunday, 3 July 2016

حسن باقی شباب باقی ہے

حسن باقی، شباب باقی ہے 
عاشقی کا نصاب باقی ہے 
روز جیتا ہوں، روز مرتا ہوں 
زندگی کا حساب باقی ہے 
تھک گئے پاؤں، پڑ گئے چھالے 
حسرتوں کا سراب باقی ہے 

قصہ غم سنا کے دیکھ لیا

قصۂ غم سنا کے دیکھ لیا
جان اپنی جلا کے دیکھ لیا
خاک میں مل ملا کے دیکھ لیا
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
دل پہ جو اختیار تھا،۔ نہ رہا
خوب سمجھا بجھا کے دیکھ لیا

نظر جب سے وہ مہرباں ہو گئی ہے

نظر جب سے وہ مہرباں ہو گئی ہے
زمیں عشق کی آسماں ہو گئی ہے
تماشا یہ عمرِرواں ہو گئی ہے
یقیں سے گزر کر گماں ہو گئی ہے
مری خاکساری دلیلِ خودی تھی
یہی بے نشانی، نشاں ہو گئی ہے

Sunday, 8 May 2016

رفتہ رفتہ دل ہمارا تیرا دیوانہ ہوا

رفتہ رفتہ دل ہمارا، تیرا دیوانہ ہُوا
تھا ذرا سا واقعہ، اس پر یہ افسانہ ہوا
اب سزا جو بھی ملے، جتنی ملے، جیسی ملے
ہاں ہُوا اعلانِ الفت،۔۔ اور رِندانہ ہوا
ہے فضا خاموش، وحشت چار سُو، بوجھل ہوا
اس طرف کس کا گزر اے کُوئے جانانہ! ہوا

پاس ہے تم کو اگر پچھلی شناسائی کا

پاس ہے تم کو اگر پچھلی شناسائی کا
آؤ! دہرائیں فسانہ شبِ تنہائی کا
حسن کو شوق ہے گر انجمن آرائی کا
آۓ دیکھے وہ تماشا مِری رسوائی کا
زندگی ! میں تجھے مر مر کے جئے جاتا ہوں
کچھ تو انعام دے اس قافیہ پیمائی کا 

کافر الفت ساقی کوئی میخوار نہیں

کافرِ الفتِ ساقی کوئی مے خوار نہیں  
حیف، ان بادہ پرستوں پہ کہ دِیندار نہیں 
اہلِ محشر میں جو پُرسش کا سزاوار نہیں 
ایک میں تو ہوں، کوئی اور گنہگار نہیں
جتنے میکش ہیں، مئے ہوش کے متوالے ہیں 
کیا خراباتِ جہاں میں کوئی ہُشیار نہیں 

دنیا سے مجھے مطلب دنیا تو ہے دیوانی

دنیا سے مجھے مطلب، دنیا تو ہے دیوانی 
سنتا ہوں میں دنیا کی، کرتا ہوں غزلخوانی 
اے بے خودئ الفت! اعجاز ہے یہ تیرا 
مطلق نہیں اب مجھ کو احساسِ گراں جانی
اک عالمِ حیرت ہے، صورت کدۂ عالم 
دیکھو گے اسے جتنا، بڑھ جائے گی حیرانی 

Saturday, 16 January 2016

پی کر شراب عشق جو سرشار ہو گئے

پی کر شرابِ عشق جو سرشار ہو گئے
بارِ غمِ جہاں سے سُبک سار ہو گئے
لب آشنا جو خواہشِ دیدار ہو گئی
پہلے سے بھی زیادہ وہ خوددار ہو گئے
راہِ طلب میں حدِ ادب سدِ راہ تھی
آگے قدم بڑھانے سے ناچار ہو گئے

جس قدر شکوے تھے سب حرف دعا ہونے لگے

جس قدر شکوے تھے، سب حرفِ دعا ہونے لگے
ہم کسی کی آرزو میں، ‌کیا سے کیا ہونے لگے
بے کسی نے، بے زبانی کو زباں کیا بخش دی
جو نہ کہہ سکتے تھے، اشکوں سے ادا ہونے لگے
ہم زمانہ کی سخن فہمی کا شکوہ کیا کریں
جب ذرا سی بات پر تم بھی خفا ہونے لگے

میرا جانا نہ ہوا آپ کا آنا نہ ہوا

میرا جانا نہ ہوا،۔ آپ کا آنا نہ ہوا
بات اتنی تھی مگر اس پہ یہ افسانہ ہوا
جان دینے میں مجھے عذر نہیں ہے لیکن
ہاں! اگر پھر بھی مِرے غم کا مداوا نہ ہوا
گِر گیا ہو گا لہو آنکھ سے انجانے میں
ورنہ کب ہم کو تِرا درد گوارا نہ ہوا

نے نامہ و پیغام نے کوئی خبر آوے

نے نامہ و پیغام،۔ نے کوئی خبر آوے
اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
یوں یاد تِری چھپ کے مِرے دل میں در آوے
جوں صبح کا بھولا کوئی شام اپنے گھر آوے
یہ موڑ ہے، وہ پیچ ہے، یہ اونچ ہے، وہ نیچ
اک کھٹکا نیا روز سر رہگزر آوے

کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں

کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں
حجابِ رنگ و بو ہے اور میں ہوں
نگاہ شرمگیں ہے اور تُو ہے
بیانِ آرزو ہے اور میں ہوں
مجھے دیر وحرم سے واسطہ کیا
طوافِ کو بہ کو ہے اور میں ہوں