Saturday, 5 December 2020

ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا

 ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا

ایک پردہ جو اٹھا، دوسرا پردا نکلا

منظرِ زیست سراسر تہ و بالا نکلا

غور سے دیکھا تو ہر شخص تماشا نکلا

ایک ہی رنگ کا غم خانۂ دنیا نکلا

غمِ جاناں بھی غمِ زیست کا سایا نکلا

اس رہِ عشق کو ہم اجنبی سمجھے تھے مگر

جو بھی پتھر ملا، برسوں کا شناسا نکلا

آرزو، حسرت و امید، شکایت، آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

جو بھی گزرا تری فرقت میں وہ اچھا گزرا

جو بھی نکلا مری تقدیر میں اچھا نکلا

گھر سے نکلے تھے کہ آئینہ دکھائیں سب کو

اور ہر عکس میں خود اپنا سراپا نکلا

کیوں نہ ہم بھی کریں اس نقشِ کفِ پا کی تلاش

شعلۂ طور بھی تو ایک بہانا نکلا

جی میں تھا بیٹھ کے کچھ اپنی کہیں گے سرور

تُو بھی کم بخت زمانہ کا ستایا نکلا


سرور عالم راز

No comments:

Post a Comment