اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا
پڑھ لوں کتاب حسن سے مضمون خواب کا
اپنی نظر بھی ڈال دے ساقی شراب میں
دیکھے کوئی تو اس کو ہو دھوکا گلاب کا
ظاہر پہ کر نقاب تو باطن پہ کر نظر
مطلوب ہے نظارا جو اس بے نقاب کا
اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا
پڑھ لوں کتاب حسن سے مضمون خواب کا
اپنی نظر بھی ڈال دے ساقی شراب میں
دیکھے کوئی تو اس کو ہو دھوکا گلاب کا
ظاہر پہ کر نقاب تو باطن پہ کر نظر
مطلوب ہے نظارا جو اس بے نقاب کا
نہ تو آغاز نہ انجام پہ رونا آیا
اپنی دقت کی ہر اک شام پہ رونا آیا
اہل محفل کو ہوئی شمع کے جلنے کی خوشی
مجھ کو پروانے کے انجام پہ رونا آیا
دل سے ابھرا تو نگاہوں کے دریچے سے گرا
اشک بنتے ہوئے ہر جام پہ رونا آیا
ہوا اک دن میں ہم سے غیر اچھا
پڑا در پر کسی کا پیر اچھا
کہا ہے میں نے جو دیکھا سنا ہے
جو تم سمجھو بُرا تو خیر اچھا
محبت ہم سے منہ دیکھے کی یارو
ہو دل کھوٹا تو منہ کا بیر اچھا
یوں نہ پینے میں بسر عمر کی ہر شام کرو
شوق رندی ہے تو ساقی سے نظر عام کرو
پھر نہ آئیں گے نظر ایسے مقدس چہرے
جو بقا بخشیں انہیں دنیا میں وہ کام کرو
ہے کدورت سے تو پھر بھیک سے ٹھوکر اچھی
اپنی بدنامی سے اچھا ہے مرا نام کرو
شمع کی لو سے کھیلتے دیکھے ہیں میں نے پروانے دو
اک تو موت سے کھیل رہا ہے، اک کہتا ہے جانے دو
میرے بدن پر تم برساؤ پیار کی شبنم حسن کی آگ
یوں گھل مل کر ایک نظر سے ہم پڑھ لیں افسانے دو
جن پر جان لٹا دی میں نے وہ ہی مجھ سے برہم ہیں
رونے پر پابندی ہے تو قہقہہ ایک لگانے دو
حسرت سے دیکھتا ہوں تِری رہگزر کو میں
سمجھاؤں کس طرح یہ دل بے خبر کو میں
کیا دوں جواب ان کے اشاروں کا ہم نشیں
سمجھا نہیں ہوں آج تک اس فتنہ گر کو میں
رہبر ہی ساتھ ہے نہ ہے منزل کا ہی نشاں
راہوں سے بے خبر ہوں چلا ہوں سفر کو میں
اک لہر اٹھی غم کی دل میں امید کا دامن چھوٹ گیا
رو رو کے ارماں کہتے ہیں دل ٹوٹ گیا دل ٹوٹ گیا
گر ناچ رہے ہیں مور تو کیا کرتا ہے پپیہا شور تو کیا
میں جنم جلی فریاد کروں مِرا پریتم مجھ سے روٹھ گیا
بربادئ دل کا افسانہ ہم کس سے کہیں اور کیسے کہیں
جب سننے والا کوئی نہیں جب دل ہی اپنا ٹوٹ گیا
نظر ملنے سے پہلے ہی نظارا مل گیا مجھ کو
کہ تنہا ڈوب جانے کا سہارا مل گیا مجھ کو
حیات و مرگ کی منزل ہوئی ہے پیار میں آساں
کنارے سے کہیں پہلے کنارا مل گیا مجھ کو
چبھن بھی ساتھ لائی ہیں اڑا کر نکہت گل میں
ہواؤں سے پتا اپنا تمہارا مل گیا مجھ کو
یوں نہ پینے میں بسر عمر کی ہر شام کرو
شوق رندی ہے تو ساقی سے نظر عام کرو
پھر نہ آئیں گے نظر ایسے مقدس چہرے
جو بقاۂ بخشیں انہیں دنیا میں وہ کام کرو
ہے کدورت سے تو پھر بھیک سے ٹھوکر اچھی
اپنی بدنامی سے اچھا ہے مِرا نام کرو
کیا ہو گیا ہے تجھ کو مِرے دل، سنبھل سنبھل
ایسے تو پاؤں رکھتے ہیں غافل، سنبھل سنبھل
لایا ہے کھینچ تم کو جہاں ذوقِ مے کشی
لگتی نہیں یہ درد کی محفل، سنبھل سنبھل
اک عمر پا کے ختم نہ ہو جائے تیرا پیار
ہونے لگی ہے آرزو شامل، سنبھل سنبھل
ہے تمنا کوئی نہ کوئی آس
زندگی ہے بہت اداس اداس
کیوں نہ غم کو گلے لگاؤں میں
کس کو آئی ہے شادمانی راس
منزلوں کے قریب تر ہے وہ
عشق میں کھو چکا جو ہوش و حواس