Showing posts with label کنول سیالکوٹی. Show all posts
Showing posts with label کنول سیالکوٹی. Show all posts

Tuesday, 20 January 2026

اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا

 اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا

پڑھ لوں کتاب حسن سے مضمون خواب کا

اپنی نظر بھی ڈال دے ساقی شراب میں

دیکھے کوئی تو اس کو ہو دھوکا گلاب کا

ظاہر پہ کر نقاب تو باطن پہ کر نظر

مطلوب ہے نظارا جو اس بے نقاب کا

Wednesday, 16 April 2025

نہ تو آغاز نہ انجام پہ رونا آیا

 نہ تو آغاز نہ انجام پہ رونا آیا

اپنی دقت کی ہر اک شام پہ رونا آیا

اہل محفل کو ہوئی شمع کے جلنے کی خوشی

مجھ کو پروانے کے انجام پہ رونا آیا

دل سے ابھرا تو نگاہوں کے دریچے سے گرا

اشک بنتے ہوئے ہر جام پہ رونا آیا

Tuesday, 15 April 2025

ہوا اک دن میں ہم سے غیر اچھا

 ہوا اک دن میں ہم سے غیر اچھا

پڑا در پر کسی کا پیر اچھا

کہا ہے میں نے جو دیکھا سنا ہے

جو تم سمجھو بُرا تو خیر اچھا

محبت ہم سے منہ دیکھے کی یارو

ہو دل کھوٹا تو منہ کا بیر اچھا

Thursday, 24 November 2022

یوں نہ پینے میں بسر عمر کی ہر شام کرو

یوں نہ پینے میں بسر عمر کی ہر شام کرو

شوق رندی ہے تو ساقی سے نظر عام کرو

پھر نہ آئیں گے نظر ایسے مقدس چہرے

جو بقا بخشیں انہیں دنیا میں وہ کام کرو

ہے کدورت سے تو پھر بھیک سے ٹھوکر اچھی

اپنی بدنامی سے اچھا ہے مرا نام کرو

Friday, 4 November 2022

شمع کی لو سے کھیلتے دیکھے ہیں میں نے پروانے دو

 شمع کی لو سے کھیلتے دیکھے ہیں میں نے پروانے دو

اک تو موت سے کھیل رہا ہے، اک کہتا ہے جانے دو

میرے بدن پر تم برساؤ پیار کی شبنم حسن کی آگ

یوں گھل مل کر ایک نظر سے ہم پڑھ لیں افسانے دو

جن پر جان لٹا دی میں نے وہ ہی مجھ سے برہم ہیں

رونے پر پابندی ہے تو قہقہہ ایک لگانے دو

Tuesday, 22 March 2022

حسرت سے دیکھتا ہوں تری رہگزر کو میں

 حسرت سے دیکھتا ہوں تِری رہگزر کو میں

سمجھاؤں کس طرح یہ دل بے خبر کو میں

کیا دوں جواب ان کے اشاروں کا ہم نشیں

سمجھا نہیں ہوں آج تک اس فتنہ گر کو میں

رہبر ہی ساتھ ہے نہ ہے منزل کا ہی نشاں

راہوں سے بے خبر ہوں چلا ہوں سفر کو میں

Tuesday, 8 March 2022

اک لہر اٹھی غم کی دل میں امید کا دامن چھوٹ گیا

 اک لہر اٹھی غم کی دل میں امید کا دامن چھوٹ گیا

رو رو کے ارماں کہتے ہیں دل ٹوٹ گیا دل ٹوٹ گیا

گر ناچ رہے ہیں مور تو کیا کرتا ہے پپیہا شور تو کیا

میں جنم جلی فریاد کروں مِرا پریتم مجھ سے روٹھ گیا

بربادئ دل کا افسانہ ہم کس سے کہیں اور کیسے کہیں

جب سننے والا کوئی نہیں جب دل ہی اپنا ٹوٹ گیا

Monday, 7 March 2022

نظر ملنے سے پہلے ہی نظارا مل گیا مجھ کو

 نظر ملنے سے پہلے ہی نظارا مل گیا مجھ کو

کہ تنہا ڈوب جانے کا سہارا مل گیا مجھ کو

حیات و مرگ کی منزل ہوئی ہے پیار میں آساں

کنارے سے کہیں پہلے کنارا مل گیا مجھ کو

چبھن بھی ساتھ لائی ہیں اڑا کر نکہت گل میں

ہواؤں سے پتا اپنا تمہارا مل گیا مجھ کو

Sunday, 6 March 2022

یوں نہ پینے میں بسر عمر کی ہر شام کرو

 یوں نہ پینے میں بسر عمر کی ہر شام کرو

شوق رندی ہے تو ساقی سے نظر عام کرو

پھر نہ آئیں گے نظر ایسے مقدس چہرے

جو بقاۂ بخشیں انہیں دنیا میں وہ کام کرو

ہے کدورت سے تو پھر بھیک سے ٹھوکر اچھی

اپنی بدنامی سے اچھا ہے مِرا نام کرو

Saturday, 5 March 2022

کیا ہو گیا ہے تجھ کو مرے دل سنبھل سنبھل

کیا ہو گیا ہے تجھ کو مِرے دل، سنبھل سنبھل

ایسے تو پاؤں رکھتے ہیں غافل، سنبھل سنبھل

لایا ہے کھینچ تم کو جہاں ذوقِ مے کشی

لگتی نہیں یہ درد کی محفل، سنبھل سنبھل

اک عمر پا کے ختم نہ ہو جائے تیرا پیار

ہونے لگی ہے آرزو شامل، سنبھل سنبھل

Monday, 21 September 2020

ہے تمنا کوئی نہ کوئی آس

ہے تمنا کوئی نہ کوئی آس

زندگی ہے بہت اداس اداس

کیوں نہ غم کو گلے لگاؤں میں

کس کو آئی ہے شادمانی راس

منزلوں کے قریب تر ہے وہ

عشق میں کھو چکا جو ہوش و حواس