Monday, 7 March 2022

نظر ملنے سے پہلے ہی نظارا مل گیا مجھ کو

 نظر ملنے سے پہلے ہی نظارا مل گیا مجھ کو

کہ تنہا ڈوب جانے کا سہارا مل گیا مجھ کو

حیات و مرگ کی منزل ہوئی ہے پیار میں آساں

کنارے سے کہیں پہلے کنارا مل گیا مجھ کو

چبھن بھی ساتھ لائی ہیں اڑا کر نکہت گل میں

ہواؤں سے پتا اپنا تمہارا مل گیا مجھ کو

تصور آج پہنچا دے مجھے ایسی بلندی پر

کہ تیرے خاص جلووں کا اشارا مل گیا مجھ کو

جھکی پلکوں کی پہنائی میں رقصاں ہے بہار گل

کنول پل میں چمن سارے کا سارا مل گیا مجھ کو


کنول سیالکوٹی

No comments:

Post a Comment