نظر ملنے سے پہلے ہی نظارا مل گیا مجھ کو
کہ تنہا ڈوب جانے کا سہارا مل گیا مجھ کو
حیات و مرگ کی منزل ہوئی ہے پیار میں آساں
کنارے سے کہیں پہلے کنارا مل گیا مجھ کو
چبھن بھی ساتھ لائی ہیں اڑا کر نکہت گل میں
ہواؤں سے پتا اپنا تمہارا مل گیا مجھ کو
تصور آج پہنچا دے مجھے ایسی بلندی پر
کہ تیرے خاص جلووں کا اشارا مل گیا مجھ کو
جھکی پلکوں کی پہنائی میں رقصاں ہے بہار گل
کنول پل میں چمن سارے کا سارا مل گیا مجھ کو
کنول سیالکوٹی
No comments:
Post a Comment