Monday, 7 March 2022

دوسری سمت میرا یار ہی ہے

 دوسری سمت میرا یار ہی ہے

یعنی یہ جیت میری ہار ہی ہے

قافلے والے دور جا نکلے

دیکھنے والو، اب غبار ہی ہے

عدو کا تیر کھا کے ہمت سے

مسکرانا، جوابی وار ہی ہے

شہر کے بد دماغ لوگوں میں

سرِ فہرست تیرا یار ہی ہے

اپنی خالی ہتھیلیوں میں رضا

دیکھا جائے تو انتشار ہی ہے


قاسم رضا مصطفائی

No comments:

Post a Comment