دوسری سمت میرا یار ہی ہے
یعنی یہ جیت میری ہار ہی ہے
قافلے والے دور جا نکلے
دیکھنے والو، اب غبار ہی ہے
عدو کا تیر کھا کے ہمت سے
مسکرانا، جوابی وار ہی ہے
شہر کے بد دماغ لوگوں میں
سرِ فہرست تیرا یار ہی ہے
اپنی خالی ہتھیلیوں میں رضا
دیکھا جائے تو انتشار ہی ہے
قاسم رضا مصطفائی
No comments:
Post a Comment